پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائی کے دوران پانچ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس حکام اور سی ٹی ڈی کے ترجمان کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق کارروائی شمشتو کیمپ کے علاقے میں کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک مطلوب کمانڈر عمران بھی شامل تھا، جسے دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں مطلوب قرار دیا گیا تھا۔

جیو نیوز کے مطابق سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ کمانڈر تقریباً 20 دہشت گردی مقدمات میں مطلوب تھا اور جے یو آئی ف کے رہنما مولانا خان زیب، سینیٹر ہدایت اللہ اور ریحان زیب کے قتل کے واقعات میں بھی اس کا نام تحقیقات میں سامنے آیا تھا۔ یہ تمام دعوے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے کیے گئے ہیں؛ آزاد عدالتی فیصلے یا مکمل مقدماتی ریکارڈ کی تفصیل رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔

ایکسپریس ٹریبیون نے اسی کارروائی کو انٹیلی جنس بنیاد پر کیا گیا آپریشن قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ہلاک افراد میں اسلام آباد میں امام بارگاہ پر حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سمیت آئی ایس کے پی سے وابستہ افراد شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق دو مطلوب افراد کی شناخت بھی کی گئی۔ حکام نے جائے وقوعہ سے اسلحہ، پستول، دستی بم اور ایک دیسی ساختہ دھماکا خیز آلہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ دستیاب رپورٹس میں آپریشن کے دورانیے، فائرنگ کے مکمل تبادلے اور کسی سکیورٹی اہلکار کے زخمی ہونے یا نہ ہونے کی جامع تفصیل موجود نہیں، اس لیے ان پہلوؤں پر حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ہلاک افراد کے خلاف بیان کردہ الزامات اور وابستگیاں متعلقہ حکام کے دعووں پر مبنی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ عرصے میں دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے تناظر میں سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ پشاور کی یہ کارروائی بھی اسی وسیع تر انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ بتائی گئی ہے۔ حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفتیش اور برآمد شدہ مواد کی فارنزک جانچ سے متعلق اضافی معلومات سامنے آنے کی صورت میں ہلاک افراد کی سرگرمیوں اور مبینہ نیٹ ورک کے بارے میں مزید تفصیلات واضح ہو سکتی ہیں۔