کراچی: اولڈ سٹی ایریا کے بھیم پورہ میں سیور کے اندر کام کے دوران بے ہوش ہونے والے دو صفائی کارکن علاج کے دوران انتقال کر گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ نیپئر کے علاقے میں جماعت خانہ کے قریب پیش آیا، جہاں دونوں افراد سیور کے اندر صفائی کا کام کر رہے تھے۔

شہریوں اور ایدھی رضاکاروں نے دونوں کارکنوں کو سیور سے نکالا اور ابتدائی طور پر سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا۔ بعد ازاں انہیں مزید علاج کے لیے صدر کے ایک نجی اسپتال لے جایا گیا، جہاں دونوں بدھ کی رات جانبر نہ ہو سکے۔

متوفین کی شناخت 19 سالہ وانی اور 40 سالہ رمیش کے نام سے ہوئی۔ ایک رشتہ دار کے مطابق دونوں آپس میں برادر نسبتی تھے اور لیاری کے رہائشی تھے۔ رمیش شادی شدہ تھا اور اس کے دو بچے تھے۔ دونوں جماعت خانہ میں نجی طور پر ملازم تھے۔

پولیس نے ابتدائی طور پر موت کی وجہ دم گھٹنے سے جوڑی ہے، تاہم سیور کے اندر موجود مخصوص گیسوں، آکسیجن کی سطح یا حفاظتی آلات کے استعمال سے متعلق تفصیلی تکنیکی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ بند جگہوں میں کام کے دوران زہریلی گیسیں اور آکسیجن کی کمی شدید خطرہ بن سکتی ہیں، جس کے لیے پیشہ ورانہ حفاظتی طریق کار ضروری ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جماعت خانہ انتظامیہ اور متوفین کے خاندانوں کے درمیان بات چیت کے بعد ایک تحریری تصفیہ پولیس کو دیا گیا جس میں ورثا نے قانونی کارروائی آگے نہ بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ خاندانی فیصلہ واقعے کے حفاظتی پہلوؤں اور کام کی جگہ کے ممکنہ معیارات سے متعلق وسیع سوالات کو ختم نہیں کرتا۔

پاکستان میں سیور اور مین ہول کی صفائی کے دوران کارکنوں کی اموات کے واقعات بار بار رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ تازہ واقعہ ایک بار پھر حفاظتی تربیت، گیس کی جانچ، وینٹیلیشن، حفاظتی لباس اور ریسکیو انتظامات کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے، خصوصاً نجی اداروں میں جہاں کام کے معیارات کی نگرانی غیر یکساں ہو سکتی ہے۔