لاہور: جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ کے حتمی فیصلے کو ایک دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب اسمبلی کے باہر جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی قیادت جمعہ کو فیصلہ کرے گی اور گوجرانوالہ میں عوامی اجتماع کے دوران آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کا دھرنا 26ویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور پارٹی حکومت سے معاشی ریلیف سمیت مختلف مطالبات پر مذاکرات اور عملی اقدامات کا تقاضا کر رہی ہے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت کو جواب دینے کے لیے کافی وقت دیا جا چکا ہے اور مزید تاخیر قبول نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے عالمی تیل کی قیمتوں کو ملکی ایندھن کے بلند نرخوں کی وجہ قرار دینے پر تنقید کی اور پیٹرولیم لیوی سمیت حکومتی محصولات کا معاملہ اٹھایا۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ حکومت صارفین پر بوجھ کم کرنے کے لیے ٹیکس اور قیمتوں کے ڈھانچے میں ریلیف دے سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس مخصوص خطاب کے جواب میں فوری تفصیلی مؤقف رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

حافظ نعیم نے خبردار کیا کہ مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج اسلام آباد مارچ اور بعد ازاں ملک گیر سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ سیاسی اعلان اور ممکنہ آئندہ لائحہ عمل ہے؛ لانگ مارچ کی حتمی تاریخ ابھی مقرر نہیں ہوئی۔

احتجاجی سیاست کے تناظر میں وفاقی اور صوبائی انتظامیہ کے لیے امن و امان، ٹریفک اور عوامی نقل و حرکت اہم انتظامی امور ہوتے ہیں۔ کسی بڑے مارچ کی صورت میں جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی نوعیت بھی آئندہ صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

جمعہ کے گوجرانوالہ اجتماع کو اب پارٹی کے اگلے قدم کے لیے مرکزی موقع سمجھا جا رہا ہے۔ وہاں مرکزی قیادت کے فیصلے کے بعد واضح ہوگا کہ جماعت اسلامی احتجاج کو موجودہ دھرنے تک محدود رکھتی ہے، اسلام آباد مارچ کی تاریخ دیتی ہے یا حکومت کے ساتھ مزید مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہے۔