کراچی: سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے غیر مشروط معافی پیش کی ہے۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے گزشتہ کارروائی کے دوران سرکاری وکیل کی مداخلت پر سخت تحفظات ظاہر کیے تھے، جس کے بعد وزیر داخلہ کو کمیشن کے سامنے طلب کیا گیا تھا۔

گزشتہ سماعت میں سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل جواد ڈیرو نے کارروائی کے دوران متاثرہ خاندان کے وکیل جبران ناصر کی جانب سے ایک اہم گواہ سے سوالات پر اعتراض کیا تھا۔ کمیشن نے اس مداخلت کو نامناسب قرار دیا اور معاملے پر حکومت سندھ سے وضاحت طلب کی۔

تازہ سماعت میں جسٹس عمر سیال نے کہا کہ سابقہ مداخلت سے کمیشن کی کارروائی اور متاثرہ خاندان کے اعتماد پر منفی اثر پڑ سکتا تھا۔ وزیر داخلہ نے عدالت کے سامنے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی اور آئندہ اس کی کارروائی میں مداخلت نہیں ہوگی۔

عدالتی کمیشن کا مقصد میر رضا علی کی موت کے حالات، دستیاب شواہد اور متعلقہ اداروں کے کردار کا جائزہ لینا ہے۔ کمیشن کی کارروائی تفتیشی نوعیت کی ہے اور اس کے نتائج مکمل شواہد اور گواہوں کے بیانات کے بعد سامنے آئیں گے۔ کسی فرد یا ادارے کی حتمی ذمہ داری اس مرحلے پر طے شدہ نہیں۔

متاثرہ خاندان کا اعتماد ایسے تحقیقاتی عمل میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً جب کمیشن حکومتی اداروں یا اہلکاروں سے متعلق سوالات کا بھی جائزہ لے رہا ہو۔ اسی وجہ سے کمیشن نے سرکاری نمائندوں کی کارروائی میں حدود اور غیر جانبداری پر زور دیا۔

وزیر داخلہ کی معافی اور تعاون کی یقین دہانی کے بعد کمیشن اپنی تحقیقات جاری رکھے گا۔ آئندہ سماعتوں میں گواہوں، فرانزک یا دیگر دستاویزی شواہد سے کیس کے حقائق مزید واضح ہونے کی توقع ہے، جبکہ کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے تک کسی الزام کو ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔