کراچی: پیرآباد پولیس نے اورنگی ٹاؤن کے ایک نجی اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے نتیجے میں ایک ماہ کے بچے کا ہاتھ کاٹے جانے کے معاملے پر ڈاکٹر اور دیگر طبی عملے کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ واقعہ 31 اگست کو پیش آنے کا الزام ہے، جبکہ مقدمہ 9 ستمبر کو پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا۔

بچے کے والد عزت اللہ کے مطابق وہ اپنے ایک ماہ کے بیٹے عظمت اللہ کو بیماری کے باعث نجی اسپتال لے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے اینٹی بایوٹک تجویز کی اور تین نامعلوم طبی کارکنوں نے بچے کے بائیں ہاتھ میں کینولا لگا کر پٹی کر دی۔ والد کے مطابق اسی کینولا کے ذریعے متعدد انجیکشن لگائے گئے۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ چار روز بعد دوبارہ اسپتال جانے پر پٹی کھولی گئی تو بچے کا ہاتھ سیاہ ہو چکا تھا۔ والد کا الزام ہے کہ ابتدائی اسپتال سے تسلی بخش علاج نہ ملنے پر وہ بچے کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر لے گئے، جہاں انہیں بتایا گیا کہ شدید انفیکشن کے باعث ہاتھ بچانا مشکل ہے۔ بعد میں ایک دوسرے طبی مرکز میں سرجری کے ذریعے متاثرہ ہاتھ کا حصہ کاٹنا پڑا۔

یہ تمام طبی غفلت سے متعلق دعوے بچے کے والد کی شکایت اور پولیس مقدمے کا حصہ ہیں، حتمی طبی یا عدالتی نتیجہ نہیں۔ نجی اسپتال کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ خاندان اگست میں اسپتال آیا تھا اور کینولا لگوانے کے بعد عملے کو بتائے بغیر چلا گیا؛ انتظامیہ نے واقعے کی داخلی تحقیقات کا بھی کہا ہے۔

پولیس نے معاملے میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن سے بھی تحقیقات کے لیے رابطہ کیا ہے۔ طبی غفلت کے مقدمات میں مریض کا ریکارڈ، کینولا لگانے اور نگرانی کا طریقہ، انفیکشن کی وجہ، علاج کے وقفے اور ماہرین کی رائے اہم شواہد ہوتے ہیں۔

اس مرحلے پر ڈاکٹر یا عملے کی قانونی ذمہ داری ثابت نہیں ہوئی۔ پولیس اور صحت ریگولیٹر کی تحقیقات سے یہ طے ہوگا کہ علاج میں مقررہ طبی معیار کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں اور بچے کی حالت خراب ہونے کی اصل وجہ کیا تھی۔