پاکستان میں کم آمدن والی خواتین خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ پاپولیشن کونسل کی جانب سے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کے تعاون سے منعقدہ اجلاس میں ماہرین نے کہا کہ کئی دہائیوں کے سرکاری پروگراموں، بجٹ اور پالیسی وعدوں کے باوجود ضرورت مند ترین خواتین تک خدمات کی رسائی میں نمایاں تفاوت برقرار ہے۔

اجلاس میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق سب سے کم معاشی طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین میں خاندانی منصوبہ بندی کی 'غیر پوری ضرورت' 22.5 فیصد ہے، جبکہ سب سے خوشحال طبقے میں یہی شرح 3.7 فیصد بتائی گئی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ آمدن، رہائش، معلومات اور صحت کے نظام تک رسائی تولیدی صحت کے نتائج پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔

ماہرین نے نئی قائم کردہ نیشنل پاپولیشن کونسل، تولیدی صحت کی سہولیات اور سرکاری پالیسیوں کو قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پر بھی غور کیا۔ پاپولیشن کونسل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر علی ایم میر نے کہا کہ آبادی میں اضافہ صرف آبادیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے محدود ہوتے قدرتی اور معاشی وسائل سے بھی براہ راست جڑا ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کی غیر پوری ضرورت سے مراد وہ صورتحال ہے جس میں کوئی خاتون حمل میں تاخیر یا مزید حمل سے گریز چاہتی ہو لیکن مؤثر مانع حمل طریقے تک رسائی یا استعمال نہ کر رہی ہو۔ اس پیمانے کو صحت عامہ کے نظام میں خدمات کی دستیابی، معلومات اور سماجی رکاوٹوں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف قومی سطح کی اوسط شرحیں کافی نہیں کیونکہ وہ مختلف معاشی طبقات کے درمیان بڑے فرق کو چھپا سکتی ہیں۔ کم آمدن، دور دراز علاقوں، محدود نقل و حرکت اور صحت مراکز کی کمی جیسی رکاوٹیں غریب خواتین پر زیادہ اثر ڈال سکتی ہیں۔

اجلاس میں پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، خدمات کے معیار اور محروم آبادیوں تک رسائی بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ پیش کیے گئے اعداد ایک پالیسی چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں؛ اس کے حل کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کو بجٹ کے ساتھ خدمات کی حقیقی دستیابی اور نتائج کی مسلسل پیمائش بھی یقینی بنانا ہوگی۔