لاہور: تیرہ افغان میڈیکل طلبہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ان ہدایات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جن کے تحت انہیں افغانستان واپس جانے کا کہا گیا تھا۔ درخواست گزاروں میں سات خواتین اور چھ مرد شامل ہیں اور انہوں نے وکیل اسد جمال کے ذریعے الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں۔

طلبہ لاہور کے مختلف طبی تعلیمی اداروں، جن میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، شیخ خلیفہ بن زاید النہیان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز شامل ہیں، میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی اور متعلقہ کالجوں کو انہیں تعلیم سے نکالنے یا افغانستان واپس بھیجنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ یہ مؤقف درخواست گزاروں کا قانونی دعویٰ ہے اور عدالت نے ابھی اس پر فیصلہ نہیں دیا۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ پی ایم ڈی سی کے اختیارات آئین، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2023 اور پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی حدود میں استعمال ہونے چاہئیں۔ متعدد طلبہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت پاکستان آئے تھے۔ ایچ ای سی نے جولائی 2025 میں تقریباً 350 افغان طلبہ کے ایک گروپ کا خیرمقدم کیا تھا جو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے پہنچا تھا۔

ایک درخواست گزار نیلوفر نیکزاد کے مطابق وہ افغانستان میں میڈیکل تعلیم کے دو سال مکمل کر چکی تھیں لیکن طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم پر پابندیوں کے بعد وہاں اپنی پڑھائی جاری نہ رکھ سکیں۔ طلبہ نے عدالت کو بتایا کہ اچانک فیصلوں کے نتیجے میں بعض کو ہاسٹلوں سے بھی نکلنا پڑا اور ان کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی کا شکار ہوا۔

درخواستوں میں پی ایم ڈی سی کے 31 جولائی اور یکم ستمبر کے احکامات کو غیر قانونی، غیر آئینی اور ابتدا ہی سے بے اختیار قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ یکم ستمبر کے نوٹیفکیشن میں افغان میڈیکل طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت کے ساتھ موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان طلبہ کو داخلہ یا پلیسمنٹ دینے سے بھی روکا گیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے خبر کی اشاعت تک درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا تھا۔

وزارت صحت کے ایک اہلکار نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ دفتر خارجہ نے عمومی طور پر کہا تھا کہ درست ویزا اور پاسپورٹ کے بغیر کسی غیر ملکی پر غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا منصوبہ لاگو ہو سکتا ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ پی ایم ڈی سی ہدایات میں قانونی اور غیر قانونی قیام کے درمیان امتیاز نہیں کیا گیا۔ ان متضاد مؤقفوں کا قانونی جائزہ اب عدالت کے سامنے آنے کی توقع ہے۔