کراچی: سندھ اسمبلی نے سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2026 کا جائزہ لینے کے لیے 11 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ بل میں سندھ لوکل گورنمنٹ قانون 2013 میں متعدد اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، جن میں بلدیاتی کونسل کی مدت ختم ہونے کے بعد سبکدوش میئر یا چیئرمین کو نئے منتخب سربراہ کے عہدہ سنبھالنے تک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔

خصوصی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارکان شامل ہیں، تاہم اکثریت حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار، جمیل سومرو، جام خان شورو، قاسم سومرو، سلیم بلوچ، سمیتا افضل اور سعید غنی شامل ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے افتخار عالم اور طحہٰ احمد، پاکستان تحریک انصاف کے محمد شبیر قریشی اور جماعت اسلامی کے محمد فاروق بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کمیٹی کو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔

بل کے تحت دفعہ 21 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے مطابق صوبائی حکومت کسی بلدیاتی کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 دن پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے درخواست کرے گی کہ نئے انتخابات 120 دن کے اندر کرائے جائیں۔ اسی مجوزہ شق میں کونسل کی مدت ختم ہونے پر سبکدوش میئر یا چیئرمین کو عارضی طور پر ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات دینے کی تجویز ہے۔ یہ فی الحال مجوزہ قانون ہے، حتمی نافذ شدہ انتظام نہیں۔

بل حکومت کو یہ اختیار دینے کی تجویز بھی کرتا ہے کہ نائب میئر یا وائس چیئرمین کی پاکستان سے غیر موجودگی یا فرائض انجام دینے سے معذوری کی صورت میں ان کے کام کسی دوسرے رکن کے سپرد کیے جا سکیں۔ ایک نیا باب VII-A شامل کر کے ہر یونین کونسل، یونین کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی اور میونسپل کمیٹی میں ’مصالحتی فورمز‘ قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ہر فورم تین ایسے مقامی مصالحت کاروں پر مشتمل ہوگا جنہیں کونسل دیانت، فیصلہ سازی اور سماجی وقار کی بنیاد پر نامزد کرے گی۔

مجوزہ ترامیم میں یونین کونسلوں کو اپنے علاقوں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے مسائل، بلڈنگ کنٹرول خلاف ورزیوں اور غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کر کے متعلقہ اداروں کو اطلاع دینے کی ذمہ داری بھی دینے کی تجویز ہے۔ عوامی خدمات کے انفراسٹرکچر کے تفصیلی نقشوں کو دستاویزات میں شامل کرنے کی شق بھی پیش کی گئی ہے۔

اسپیکر نے بل کو تفصیلی جانچ کے لیے خصوصی کمیٹی کے سپرد کیا ہے۔ اس لیے بل میں موجود تجاویز پر کمیٹی کی سفارشات، اسمبلی میں آئندہ بحث اور منظوری کے مراحل باقی ہیں، اور موجودہ مسودے کو حتمی قانون سمجھنا درست نہیں ہوگا۔