اسلام آباد: پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلح افواج نے بدھ کو افغان طالبان کی جانب سے بھیجے گئے آٹھ ڈرون پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد مار گرائے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق چار ڈرون طورخم سرحد سے ملحقہ علاقوں میں جبکہ باقی چار کوہاٹ کے قریب روکے گئے۔ یہ معلومات سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں اور رپورٹ میں افغان طالبان کا فوری ردعمل شامل نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز کو انٹرسیپٹ کیا اور نگرانی کا نظام فعال رکھا گیا۔ اس سے پہلے اسی روز ذرائع نے کوہاٹ شہر سے تقریباً سات کلومیٹر دور دو ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کو غیر روایتی یا ’سافٹ‘ طریقوں سے گرانے کی اطلاع دی تھی۔ بعد میں مجموعی تعداد آٹھ بتائی گئی۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ فضائی دفاعی نظام ممکنہ سرحد پار خطرات کے پیش نظر مسلسل الرٹ ہے۔
یہ واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں پیش آیا ہے۔ دو روز قبل پاکستانی حکومت نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں 28 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے تھے۔ یہ سرکاری دعویٰ ہے اور اس کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔
حالیہ دنوں میں کوہاٹ اور ہنگو میں بھی شدید سکیورٹی واقعات ہوئے ہیں۔ کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز پر حملے میں 23 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوئے، جبکہ بعد کی کلیئرنس کارروائی میں آٹھ حملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاع دی گئی۔ 20 ستمبر کو ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو افسران سمیت چھ اہلکار شہید اور آٹھ دہشت گرد مارے جانے کا بیان بھی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جاری کیا تھا۔
اسلام آباد طویل عرصے سے کابل سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان سے متعلق مبینہ ٹھکانوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کیے جائیں۔ افغان طالبان ماضی میں پاکستان کے متعدد الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ موجودہ ڈرون واقعے کے بارے میں ڈان کی رپورٹ میں کابل کی جانب سے فوری باضابطہ مؤقف درج نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت ایک حالیہ مانیٹرنگ رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی اور افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم بدھ کے ڈرون واقعے کی مخصوص تفصیلات فی الحال پاکستانی سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں، اس لیے ذمہ داری اور لانچ کے مقام سے متعلق حتمی آزادانہ تصدیق سامنے آنے تک ان دعوؤں کو اسی نسبت کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔
