اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر قومی اور سیاسی بحث شروع کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں 12 سے 15 نئے صوبوں کے امکان کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست کی ہے کہ وزیر قانون کے ذریعے انتظامی اصلاحات کی ایک کمیٹی قائم کی جائے جو مختلف تجاویز، ان کے عملی تقاضوں اور ممکنہ سیاسی اثرات پر بات چیت کا آغاز کرے۔

احسن اقبال کے مطابق موجودہ چار صوبے وقت کے ساتھ زیادہ مرکزیت اختیار کر گئے ہیں اور اس صورت حال نے صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات کی مؤثر فراہمی کو متاثر کیا ہے۔ ان کی تجویز ہے کہ ہر موجودہ صوبے کو انتظامی بنیادوں پر تین حصوں میں تقسیم کرنے سمیت مختلف ماڈلز کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایسا کوئی قدم وسیع سیاسی اتفاق رائے کے بغیر نہیں اٹھایا جا سکتا۔

وفاقی وزیر نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ نئے صوبے بناتے وقت پارلیمانی نمائندگی، خصوصاً سینیٹ میں صوبوں کے حصے، کے لیے ایسا منصفانہ فارمولا ضروری ہو گا جس سے کسی ایک خطے کا وزن غیر متوازن طور پر نہ بڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی بہتری کا مقصد خدمات کو شہریوں کے قریب لانا ہونا چاہیے، نہ کہ محض سیاسی یا لسانی تقسیم پیدا کرنا۔

یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں سے متعلق پرانی بحث دوبارہ زور پکڑ رہی ہے۔ جولائی کے آخر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی موجودہ حکمرانی کے نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس پر غور کی بات کی تھی، جبکہ اگلے روز فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی اس موضوع پر سنجیدہ بحث کی ضرورت کا ذکر کیا تھا۔

تاہم وزیراعظم کے رابطہ کار رانا احسان افضل خان نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی اس مقصد کے لیے وفاقی سطح پر کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ اس وقت کسی سرکاری فورم پر حتمی پالیسی کے طور پر زیر بحث نہیں۔

اس لیے احسن اقبال کا بیان فی الحال ایک سیاسی و انتظامی تجویز ہے، حکومت کا منظور شدہ منصوبہ نہیں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی کے قیام، سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے اور نمائندگی و وسائل کی تقسیم جیسے بنیادی امور پر جامع مشاورت پر ہو گا۔