وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے درمیان ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے یہ تجاویز چین کے شہر ارومچی میں 2026 ایس سی او ڈیجیٹل اکانومی فورم کے تحت ڈیجیٹل گورننس اور صلاحیت سازی کے موضوعاتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیش کیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومتوں کے لیے اگلا مرحلہ محض کاغذی عمل کو آن لائن منتقل کرنا نہیں بلکہ خدمات، ڈیٹا، ادارہ جاتی رابطے اور نتائج کے گرد حکمرانی کے نظام کو ازسرنو ترتیب دینا ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں؛ تربیت یافتہ افرادی قوت، مضبوط ادارے، مالی وسائل، محفوظ ڈیٹا استعمال اور جواب دہ انتظامی ڈھانچہ بھی ضروری ہے۔
پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے فریم ورک میں پانچ مجوزہ اقدامات شامل ہیں۔ پہلا، ایس سی او ڈیجیٹل گورننس اکیڈمی، جس کا مقصد وزرا، ریگولیٹرز، سرکاری افسران اور بلدیاتی قیادت کو ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، اے آئی گورننس، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا مینجمنٹ اور شہری مرکوز خدمات میں تربیت دینا ہے۔ دوسرا، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ایکسچینج ہے، جس کے ذریعے ڈیجیٹل شناخت، فوری ادائیگیوں، ای-پروکیورمنٹ، ٹیکس، صحت، تعلیم اور کاروباری رجسٹریشن میں تجربات اور معیارات شیئر کیے جا سکیں۔
تیسری تجویز نوجوان سرکاری افسران، محققین اور ٹیکنالوجی ماہرین کے لیے ڈیجیٹل گورنمنٹ اور اے آئی فیلوشپ کی ہے۔ چوتھا مجوزہ پلیٹ فارم ذمہ دار اے آئی اور ڈیٹا گورننس فورم ہے، جو رازداری، سائبر سکیورٹی، الگورتھمک جواب دہی، اخلاقی مصنوعی ذہانت اور منظم سرحد پار ڈیٹا تعاون پر کام کرے۔ پانچواں اقدام ڈیجیٹل شمولیت اور اختراع کی سہولت ہے، جس کا ہدف نوجوانوں، خواتین، کم سہولت یافتہ برادریوں اور بڑے ٹیک مراکز سے باہر اداروں کے لیے صلاحیت سازی اور پائلٹ منصوبوں کی مدد ہے۔
احسن اقبال نے تجویز دی کہ سرحد پار ڈیٹا تعاون کا آغاز تجارت اور لاجسٹکس جیسے قابلِ پیمائش شعبوں سے کیا جا سکتا ہے، جہاں ڈیجیٹل انضمام لین دین کا وقت اور لاگت کم کر سکتا ہے۔ اعتماد اور ادارہ جاتی انتظام بہتر ہونے کے بعد اس تعاون کو زراعت، آب و ہوا، صحت، تحقیق اور صنعتی استعمال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے ایس سی او ممالک کے درمیان باہم مربوط ٹیکنالوجی کوریڈورز کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ پاکستان فائبر آپٹک رابطوں کو تقریباً 30 لاکھ سے 50 لاکھ سے زیادہ تک بڑھا رہا ہے اور تیز رفتار وائرڈ براڈبینڈ کو ایک کروڑ گھرانوں تک پہنچانے کا فوری ہدف رکھتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی آئی ٹی و آئی سی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کا بھی ذکر کیا۔
یہ تجاویز ابھی ایس سی او کی جانب سے منظور شدہ مشترکہ منصوبے نہیں ہیں۔ پاکستان نے انہیں رکن ممالک کے سامنے تعاون کے مجوزہ فریم ورک کے طور پر رکھا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ پیش رفت کو تربیت یافتہ اہلکاروں، باہم مربوط نظاموں، مکمل فیلوشپس، مشترکہ منصوبوں اور ڈیجیٹل عوامی خدمات تک رسائی جیسے قابلِ پیمائش نتائج سے جانچا جانا چاہیے۔

