مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک نے کہا ہے کہ 2025 کے چمیاتی واقعات اور ان سے جڑی بدامنی کے مقدمات میں اب تک 122 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق آئی جی پولیس نے یہ اعداد و شمار مظفرآباد میں چیف سیکریٹری آزاد کشمیر خوشحال خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران بتائے۔

لیاقت علی ملک کے مطابق مجموعی طور پر 69 ایف آئی آرز ان واقعات کے سلسلے میں درج کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات میں ایسے واقعات شامل ہیں جن میں پولیس اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے اور سرکاری یا عوامی املاک کو نقصان پہنچا۔ آئی جی نے گرفتار افراد کے لیے ایک سخت اصطلاح استعمال کی، تاہم خبر میں ہر گرفتار شخص پر عائد مخصوص الزام، متعلقہ ایف آئی آر نمبر یا مقدمات کی موجودہ عدالتی حیثیت کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق گرفتاریاں 2025 میں چمیاتی کے علاقے میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے تازہ بریفنگ 29 ستمبر 2026 کو سامنے آئی۔ اس لیے واقعے کے وقت اور گرفتاریوں کے اعلان کے وقت میں فرق کو واضح رکھنا ضروری ہے۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ تمام 122 گرفتاریاں ایک ہی وقت میں کی گئیں یا مختلف مراحل میں، البتہ آئی جی کے بیان کے مطابق یہ اب تک کی مجموعی تعداد ہے۔

پولیس کے بیان میں جن واقعات کا حوالہ دیا گیا، ان میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے، اہلکاروں کے زخمی یا ہلاک ہونے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے معاملات شامل ہیں۔ تاہم کسی فرد کی گرفتاری بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتی؛ فوجداری ذمہ داری کا تعین تفتیش، شواہد اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوتا ہے۔ خبر میں گرفتار افراد یا ان کے وکلا کا مؤقف شامل نہیں تھا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ کتنے ملزمان کے خلاف چالان عدالتوں میں جمع ہو چکے ہیں۔

آزاد کشمیر انتظامیہ کی اس پریس کانفرنس سے بنیادی طور پر پولیس کی کارروائی اور مقدمات کی مجموعی پیش رفت کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ مزید قانونی پیش رفت، ضمانتوں، فردِ جرم یا عدالتی فیصلوں سے متعلق کوئی نئی مصدقہ تفصیل دستیاب رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے ان پہلوؤں پر نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔