مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں براڈ بینڈ اور ڈی ایس ایل انٹرنیٹ سروس 99 روز کی طویل معطلی کے بعد اتوار کی رات بارہ بجے بحال کردی گئی۔ اس دوران ایک مختصر مدت کے لیے چالیس گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت تک سروس بحال ہوئی تھی، تاہم مجموعی طور پر خطے کے صارفین طویل عرصے تک مستقل براڈ بینڈ رسائی سے محروم رہے۔
سروس کی بحالی سے گھریلو صارفین، کاروباری اداروں، طلبہ اور آن لائن خدمات پر انحصار کرنے والے افراد کو دوبارہ فکسڈ انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی ہے۔ تاہم موبائل فون پر 3G اور 4G ڈیٹا سروسز بدستور دستیاب نہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ صارفین جو فائبر، ڈی ایس ایل یا کسی مقررہ براڈ بینڈ کنکشن تک رسائی نہیں رکھتے، اب بھی موبائل انٹرنیٹ استعمال نہیں کرسکتے۔
طویل انٹرنیٹ بندش کے دوران مواصلاتی رابطوں کے ساتھ تعلیم، تجارت، فری لانسنگ، بینکاری اور دیگر ڈیجیٹل سرگرمیاں متاثر ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ فکسڈ براڈ بینڈ کی بحالی ان سرگرمیوں کے لیے اہم پیش رفت ہے، لیکن موبائل ڈیٹا کی مسلسل معطلی کے باعث مکمل ڈیجیٹل رابطہ ابھی بحال نہیں ہوا۔
آزاد کشمیر کے جغرافیائی حالات میں موبائل ڈیٹا کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ متعدد علاقوں میں فکسڈ لائن نیٹ ورک کی رسائی محدود ہوسکتی ہے۔ اسی لیے 3G اور 4G کی عدم دستیابی کا اثر شہری مراکز سے باہر رہنے والے صارفین پر زیادہ پڑ سکتا ہے۔ موجودہ بحالی کا دائرہ براڈ بینڈ اور ڈی ایس ایل تک محدود ہے اور اسے تمام انٹرنیٹ خدمات کی مکمل بحالی نہیں سمجھا جاسکتا۔
حکام کی جانب سے موبائل ڈیٹا کی مکمل بحالی کے لیے کسی حتمی وقت کا ذکر رپورٹ میں سامنے نہیں آیا۔ صارفین اور کاروباری حلقوں کی توجہ اب اس بات پر ہوگی کہ 3G اور 4G خدمات کب دوبارہ فعال کی جاتی ہیں اور آیا بحال شدہ براڈ بینڈ سروس مسلسل دستیاب رہتی ہے۔




