بیجنگ: پاکستان اور چین نے کاروبار سے کاروبار روابط کو وسعت دینے اور جدید مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نئی شراکت داریاں تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ بات بیجنگ میں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز (CIFTIS) 2026 کے موقع پر منعقدہ پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں سامنے آئی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق کانفرنس کا موضوع ”ون ون پارٹنرشپس“ تھا اور اس میں دونوں ملکوں کے سرکاری حکام، کاروباری رہنماؤں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد محض عمومی پالیسی گفتگو کے بجائے کمپنیوں کے درمیان براہ راست روابط پیدا کرنا، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا، مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بات کرنا اور ٹیکنالوجی منتقلی کے عملی راستے دیکھنا تھا۔
چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے پاکستانی اور چینی کاروباری اداروں کے درمیان براہ راست تعلقات مضبوط کرنے کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق تقریب پاکستان کے سفارت خانے اور IBI Guolian Gufen کی شراکت سے منعقد ہوئی، جس میں تقریباً 100 شرکا نے شرکت کی۔ بیجنگ میونسپلٹی، بیجنگ کامرس بیورو، چینی کاروباری اداروں اور پاکستان کے نجی شعبے سے وابستہ نمائندے بھی موجود تھے۔
گفتگو میں خاص طور پر جدید مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی منتقلی اور مشترکہ سرمایہ کاری کو ترجیحی شعبوں کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ بی ٹو بی فارمیٹ کے تحت کمپنیوں کو ممکنہ شراکت داروں، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کا موقع ملا، تاکہ تجارتی تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کسی مخصوص سرمایہ کاری رقم، حتمی معاہدے یا دستخط شدہ مشترکہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس پیش رفت کو ابتدائی کاروباری رابطہ کاری اور ممکنہ شراکت داریوں کی تلاش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ مکمل شدہ سرمایہ کاری ڈیل کے طور پر۔ تاہم یہ اجلاس پاکستان اور چین کے اقتصادی تعلقات میں ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل خدمات اور نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
CIFTIS چین کے بڑے تجارتی اور خدماتی پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف ممالک کے ادارے خدمات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع پیش کرتے ہیں۔ پاکستانی وفد کے لیے اس کانفرنس نے چینی کمپنیوں کے ساتھ براہ راست رابطے اور نئی ٹیکنالوجی پر مبنی تجارتی شراکت داریوں کی تلاش کا موقع فراہم کیا۔




