مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کی نئی مسلم لیگ (ن) حکومت کی آٹھ رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا، جس کے ساتھ وزیراعظم افتخار گیلانی کی انتظامیہ کا ابتدائی حکومتی ڈھانچہ مکمل ہوگیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب 4 ستمبر 2026 کو ایوانِ صدر مظفرآباد میں ہوئی، جہاں قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری طارق فاروق نے نئے وزرا سے حلف لیا۔
حلف اٹھانے والے وزرا میں وقار نور، اظہر صادق، ثاقب مجید، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر، راجہ ریاست، انجینئر عمیر نعیم، عبدالرحمان آرائیں اور سردار میر اکبر شامل ہیں۔ تقریب میں وزیراعظم افتخار گیلانی، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، قانون ساز اسمبلی کے ارکان، جماعتی کارکنوں اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔
کابینہ کی تشکیل کے باوجود نئے وزرا کے قلم دان فوری طور پر جاری نہیں کیے گئے۔ سرکاری ذمہ داریوں اور محکموں کی باضابطہ تقسیم کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ خزانہ، داخلہ، تعلیم، صحت، تعمیرات اور دیگر اہم شعبے کس وزیر کے سپرد ہوں گے۔ حلف برداری کا مرحلہ حکومت کو انتظامی فیصلوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات سے متعلق ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ضروری وزارتی ٹیم فراہم کرتا ہے، تاہم ہر وزیر کے عملی کردار کا تعین قلم دانوں کے اعلان سے ہوگا۔
افتخار گیلانی 28 اگست کو آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ نئی کابینہ کی حلف برداری ان کے منصب سنبھالنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں جماعت کے علاقائی صدر شاہ غلام قادر شریک تھے۔
حلف برداری کے موقع پر شاہ غلام قادر توجہ کا مرکز رہے اور نو منتخب ارکانِ اسمبلی کی بڑی تعداد ان کے گرد موجود تھی۔ تقریب میں بڑی تعداد میں کارکنوں اور شہریوں نے بھی شرکت کی۔ نئی حکومت کے سامنے انتظامی تسلسل، ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات، سرکاری خدمات کی فراہمی اور عوامی شکایات کے ازالے جیسے فوری امور موجود ہیں۔
کابینہ کا حجم فی الحال آٹھ ارکان تک محدود رکھا گیا ہے۔ یہ ابتدائی مرحلہ ہے اور دستیاب رپورٹ میں کابینہ میں مزید توسیع، مشیروں کی تقرری یا وزرا کے محکموں کے بارے میں کوئی حتمی اعلان شامل نہیں۔ اس لیے آئندہ حکومتی ساخت سے متعلق قیاس آرائی کے بجائے سرکاری نوٹیفکیشن کا انتظار ضروری ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ آٹھ وزرا نے آئینی حلف اٹھا لیا ہے اور نئی حکومت کی ابتدائی انتظامی تشکیل مکمل ہوگئی ہے۔




