مظفرآباد: مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ڈاکٹر محمد نجیب نقی آزاد جموں و کشمیر کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ 24 ستمبر کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں ہونے والی صدارتی ووٹنگ میں ڈاکٹر نجیب نقی نے 32 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کے حق میں 13 ووٹ پڑے۔
ڈان کے مطابق پولنگ صبح 11 بجے شروع ہوئی اور دوپہر ایک بجے تک جاری رہی۔ آزاد جموں و کشمیر کے آئینی طریقہ کار کے تحت صدر کا انتخاب قانون ساز اسمبلی کے ارکان کرتے ہیں اور کامیابی کے لیے ایوان کی مجموعی رکنیت کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر نجیب نقی کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔
یہ انتخاب کئی ماہ سے خالی صدارتی عہدہ پُر کرنے کے لیے ہوا۔ سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد جنوری 2026 سے یہ منصب مستقل صدر کے بغیر تھا۔ اس دوران آئینی انتظام کے تحت قائم مقام صدر ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ تازہ انتخاب کے نتیجے کے ساتھ اب مستقل صدر کے تقرر کا آئینی عمل مکمل ہوگیا ہے۔
ڈاکٹر نجیب نقی اس سے قبل آزاد کشمیر کی سیاست میں مختلف حکومتی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق وہ صحت، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف قلمدانوں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان کی سیاسی سرگرمیاں خاص طور پر پونچھ ڈویژن اور سدھنوتی سے منسلک رہی ہیں۔
صدارتی مقابلے میں چوہدری لطیف اکبر پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے۔ مختلف ذرائع میں اسمبلی کی موجودہ عددی ساخت کے اعداد میں معمولی فرق بیان ہوا ہے، تاہم نتیجے کے بنیادی اعداد پر معتبر پاکستانی ذرائع متفق ہیں: ڈاکٹر نجیب نقی کو 32 اور چوہدری لطیف اکبر کو 13 ووٹ ملے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کا ایک رکن اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔
یہ خبر پہلے سے موجود انتخابی شیڈول سے الگ ایک مکمل شدہ سیاسی و آئینی واقعہ ہے، کیونکہ 24 ستمبر کی پولنگ کے بعد اب امیدواروں کی نامزدگی یا انتخابی منصوبہ نہیں بلکہ حتمی نتیجہ سامنے آچکا ہے۔ نئے صدر کی مدت اور آئینی ذمہ داریاں آزاد جموں و کشمیر کے متعلقہ قانونی ڈھانچے کے مطابق ہوں گی، جبکہ حلف برداری اور آئندہ سرکاری مصروفیات کی تفصیل متعلقہ ادارے الگ سے جاری کرسکتے ہیں۔

