اسلام آباد: پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے قومی فریم ورک میں اہم ریگولیٹری تبدیلیوں کی منظوری دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت 27 اکتوبر کو نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی برائے AML-CFT کے 19ویں اجلاس میں کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹس کی حد پر نظرثانی سمیت متعدد فیصلے کیے گئے۔
سرکاری پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹس، یعنی CTRs، کی حد میں مجوزہ تبدیلی منظور کی۔ ڈان اور دیگر معتبر رپورٹوں کے مطابق نقد لین دین کے لیے یہ حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ CTR اس وقت رپورٹ کی جاتی ہے جب نقد لین دین مقررہ حد کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ اس کے برعکس مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ، یعنی STR، کا تعلق ایسے لین دین یا سرگرمی سے ہوتا ہے جس میں منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کی مالی معاونت کے اشارے سامنے آئیں؛ اس لیے نئی مقداری حد مشکوک سرگرمی کی الگ رپورٹنگ ذمہ داری ختم نہیں کرتی۔
کمیٹی نے پاکستان میری ٹائم زونز ایکٹ 2023 کی دفعہ 28 کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول اول میں شامل کرنے کی تجویز بھی منظور کی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سمندری قزاقی سے متعلق جرم کو AMLA کے تحت بنیادی جرم کے فریم ورک میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کو AMLA کے شیڈول چہارم میں شامل کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جس سے ورچوئل اور ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی کو قومی AML-CFT نظام کے ساتھ مزید مربوط کیا جائے گا۔
اجلاس میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی، ادارہ جاتی صلاحیت اور مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کے استعمال سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے سابقہ فیصلوں پر بروقت عمل درآمد، متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطے اور واضح مدت کے ساتھ عملی روڈ میپ پر زور دیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مالی نگرانی کے نظام کو بدلتے ہوئے خطرات اور نئی ٹیکنالوجی کے مطابق مؤثر رکھنا ہے۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ رپورٹنگ اداروں سے CTR اور STR وصول کرکے ان کا تجزیہ کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق متعلقہ ریکارڈ طلب کرسکتا ہے۔ نئی حد کے نفاذ کی عملی تفصیلات متعلقہ قانونی اور ریگولیٹری نوٹیفکیشنز کے مطابق لاگو ہوں گی، جبکہ مشکوک لین دین کی رپورٹنگ اپنی الگ قانونی بنیاد پر جاری رہے گی۔
