اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کمپنیوں کے انکم ٹیکس ریٹرنز کے ساتھ جمع ہونے والے مالیاتی بیانات کے لیے نئے الیکٹرانک فائلنگ تقاضے تجویز کیے ہیں۔ ایف بی آر کی سرکاری فہرست کے مطابق SRO 1912(I)/2026 کے ذریعے انکم ٹیکس رولز 2002 کے رول 73 میں مسودہ ترامیم جاری کی گئی ہیں۔ یہ قواعد ابھی مجوزہ مرحلے میں ہیں اور متاثرہ فریقوں سے اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی ہیں۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق مجوزہ نئے ذیلی قاعدے 2F کے تحت ٹیکس سال 2026 اور اس کے بعد کمپنی کے انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ مالیاتی بیانات صرف IRIS پورٹل کے ذریعے ایسے الیکٹرانک فارمیٹ میں فراہم کرنا ہوں گے جسے نظام مشینی طور پر پڑھ اور پراسیس کر سکے۔ اس فارمیٹ کو ایف بی آر کی مقرر کردہ ڈیٹا اسکیم، ٹیکسانومی، فائل اسٹرکچر، فیلڈ میپنگ، ویلیڈیشن رولز اور دیگر تکنیکی شرائط کے مطابق ہونا ہوگا۔

مسودے میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ مختلف اقسام کی کمپنیوں کے لیے ان کے قابل اطلاق مالیاتی رپورٹنگ فریم ورک کو دیکھتے ہوئے الگ ڈیٹا اسکیمیں یا تکنیکی تقاضے مقرر کیے جا سکیں۔ اس کا مقصد مالیاتی معلومات کو ایک زیادہ منظم اور قابل تجزیہ شکل میں حاصل کرنا ہے، تاہم حتمی تقاضے قواعد کی منظوری اور ایف بی آر کی جاری کردہ تکنیکی تفصیلات سے طے ہوں گے۔

مجوزہ ترمیم رول 73 کے ذیلی قاعدے 3 میں بھی تبدیلی کرتی ہے۔ اس کے تحت IRIS کے ذریعے جمع ہونے والے ریٹرنز، مالیاتی بیانات، سرٹیفکیٹس، درخواستوں اور دیگر دستاویزات کی تصدیق متعلقہ شخص یا اجازت یافتہ ای انٹرمیڈیئری کو ڈیجیٹل دستخط یا رجسٹرڈ اسناد سے منسلک محفوظ الیکٹرانک طریقے سے کرنا ہوگی۔ کامیاب ترسیل اور ویلیڈیشن کے بعد IRIS ایک منفرد حوالہ نمبر کے ساتھ الیکٹرانک رسید جاری کرے گا جو فائلنگ کے ثبوت کے طور پر استعمال ہوگی۔

ایف بی آر کی ویب سائٹ پر SRO 1912(I)/2026 کو واضح طور پر انکم ٹیکس رولز 2002 کے رول 73 میں 'Draft Amendments' کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اس لیے اسے فوری طور پر نافذ شدہ حتمی ضابطہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف بی آر نے سرکاری گزٹ میں اشاعت کے سات دن کے اندر متاثرہ افراد اور اداروں سے اعتراضات و تجاویز مانگی ہیں، جن پر حتمی قواعد جاری کرنے سے پہلے غور کیا جائے گا۔