پاکستان کی انسدادِ منشیات فورس، اے این ایف، نے کہا ہے کہ اس کی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کراچی اور کولمبو کی بندرگاہوں پر مجموعی طور پر 671 کلوگرام میتھ ایمفیٹامین، جسے عام طور پر آئس کہا جاتا ہے، ضبط کی گئی۔ فورس کے مطابق کارروائی ایک سرحد پار اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کی گئی اور پاکستان، سری لنکا اور امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے درمیان معلومات کے تبادلے نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔
اے این ایف کے 4 ستمبر 2026 کو سامنے آنے والے بیان کے مطابق جولائی میں کراچی پورٹ پر ایک کنٹینر سے 200 کلو میتھ ایمفیٹامین برآمد ہوئی تھی۔ فورس نے دعویٰ کیا کہ اس مرحلے پر احسان اللہ نامی افغان شہری، جسے اس نے مبینہ نیٹ ورک کا سرغنہ قرار دیا، اور بعض مقامی سہولت کار گرفتار کیے گئے۔ یہ شناخت اور کردار اے این ایف کی تفتیشی پوزیشن ہے؛ ملزمان کے خلاف الزامات کسی حتمی عدالتی فیصلے کے مترادف نہیں۔
فورس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش کے دوران حاصل معلومات سری لنکن حکام اور امریکی ڈی ای اے کو فراہم کی گئیں۔ اے این ایف کے بیان کے مطابق اس معلومات کے نتیجے میں کولمبو پورٹ پر دو کنٹینروں کی جانچ ہوئی، جہاں تولیوں میں چھپائی گئی مزید 471 کلو میتھ ایمفیٹامین برآمد کی گئی۔ کراچی کی 200 کلو اور کولمبو کی 471 کلو مقدار کو جمع کرکے فورس نے مجموعی برآمدگی 671 کلو بتائی ہے۔
تاہم اسی بین الاقوامی کارروائی کے بارے میں سری لنکن پولیس اور کولمبو میں امریکی سفارت خانے کے پہلے جاری کردہ بیان میں بعض اہم تفصیلات مختلف ہیں۔ ڈان کے مطابق ان اداروں نے کولمبو سے تقریباً نصف ٹن منشیات کی ضبطی کا اعلان کرتے ہوئے نیٹ ورک کو پاکستان میں قائم قرار دیا اور دو پاکستانی شہریوں کی گرفتاری بتائی۔ امریکی سفارت خانے کی اطلاع میں کولمبو کی مقدار 463 کلوگرام اور اندازاً مالیت 21 ملین ڈالر بتائی گئی تھی، جبکہ اے این ایف بعد میں 471 کلو اور افغانستان سے منسلک نیٹ ورک کا ذکر کرتی ہے۔ دستیاب بیانات میں اس آٹھ کلو کے عددی فرق اور نیٹ ورک کی مختلف نسبت کی باقاعدہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
اے این ایف نے کہا کہ ضبط شدہ منشیات مبینہ طور پر افغانستان سے نکلی تھیں اور پاکستان کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے عبوری راستے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ یہ دعویٰ بھی فورس کے بیان کا حصہ ہے اور آزاد عدالتی نتیجہ نہیں۔ اے این ایف کے مطابق سری لنکن حکام اور ڈی ای اے نے معلوماتی تعاون پر اس کے کردار کو سراہا۔
اس کیس میں متعدد دائرہ ہائے اختیار شامل ہیں، اس لیے مقدمات، ملزمان کی تحویل، فردِ جرم اور شواہد کی تفصیل پاکستان اور سری لنکا میں الگ قانونی کارروائیوں کے ذریعے سامنے آ سکتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ کراچی میں 200 کلو کی کارروائی اور کولمبو میں ایک بڑی الگ ضبطی ہوئی، جبکہ مجموعی 671 کلو، کولمبو کی 471 کلو مقدار اور نیٹ ورک کی افغان نسبت اے این ایف کے جاری کردہ حساب اور مؤقف پر مبنی ہیں۔ امریکی اور سری لنکن حکام کا پہلے کا بیان کولمبو کی ضبطی کو 463 کلو اور نیٹ ورک کو پاکستان سے منسلک بتاتا ہے، اس لیے دونوں بیانات کو ایک ہی غیر متنازع تفصیل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ کے ایسے مقدمات میں کنٹینر ریکارڈ، مالی لین دین، مواصلاتی ڈیٹا اور گرفتار افراد کے خلاف عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد سے ہی نیٹ ورک کی حتمی ساخت اور ذمہ داری واضح ہوگی۔ اے این ایف نے اس کارروائی کو انٹیلی جنس پر مبنی بین الاقوامی تعاون کی مثال قرار دیا ہے، مگر ملزمان کے قانونی حقوق اور بے گناہی کے اصول کا اطلاق عدالتی فیصلے تک برقرار رہے گا۔




