لاہور: پیٹرولیم لیوی، ایندھن اور بجلی کی بلند قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مختلف شہروں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جس کے بعد وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے مطالبات پر باضابطہ مذاکرات کے لیے اپنی اپنی کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت 3 ستمبر کو لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران سامنے آئی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے ایک مذاکراتی کمیٹی قائم کر دی ہے اور جماعت اسلامی سے بھی اپنی ٹیم نامزد کرنے کو کہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت پیٹرولیم لیوی میں کمی اور عوامی ریلیف سے متعلق قابل عمل تجاویز سننے اور ان پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے بھی کہا کہ جماعت اسلامی کی عملی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کی مذاکراتی کمیٹی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کام کرے گی۔ انہوں نے پیٹرولیم لیوی ختم یا نمایاں کم کرنے، پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی اور روٹی سمیت بنیادی ضروریات سستی کرنے کے مطالبات دہرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ساتھ صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر شہروں میں جاری دھرنے بھی جاری رہیں گے۔ اس مرحلے پر حکومت نے لیوی ختم کرنے یا کسی مخصوص مالی رعایت کا اعلان نہیں کیا؛ اتفاق صرف مذاکراتی عمل شروع کرنے پر ہوا ہے۔
ہڑتال کا اثر ملک بھر میں یکساں نہیں تھا۔ کراچی میں بڑے تجارتی مراکز، تھوک بازاروں اور کئی شاپنگ پلازوں نے کاروبار بند رکھا اور سڑکوں پر معمول سے کم ٹریفک رہی۔ جماعت اسلامی کراچی کے سربراہ منعم ظفر خان نے 300 سے زیادہ چھوٹی اور بڑی مارکیٹیں بند ہونے کا دعویٰ کیا۔ وکلا تنظیموں نے بھی احتجاج کی حمایت کی، تاہم بعض رہائشی علاقوں کی دکانیں، کھانے پینے کے مقامات، ٹرانسپورٹ اور کچھ پیٹرول پمپ کھلے رہے۔
سندھ کے حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، شکارپور، لاڑکانہ اور دیگر علاقوں میں مکمل یا جزوی بندش کی اطلاعات آئیں۔ خیبر پختونخوا میں پشاور کا ردعمل ملا جلا رہا، جبکہ لوئر اور اپر دیر، چارسدہ، بٹگرام، چترال اور بعض دوسرے اضلاع میں بڑی مارکیٹیں بند رہیں اور احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اسلام آباد کے کئی تجارتی مراکز جزوی طور پر بند رہے، راولپنڈی میں زیادہ تر کاروبار جاری رہا اور لاہور کے بعض نمایاں بازاروں نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ مجموعی طور پر پنجاب اور بلوچستان کے کئی حصوں میں معمولات نسبتاً کم متاثر ہوئے۔
کراچی کے کورنگی کراسنگ پر پرانی موٹر سائیکلیں اور ٹائر جلانے اور راستہ روکنے کے الزام میں پولیس نے چھ افراد کو گرفتار کیا جنہیں پولیس نے جماعت اسلامی سے وابستہ بتایا۔ جماعت اسلامی نے مجموعی احتجاج کو پرامن قرار دیا اور کہا کہ تخریبی کارروائی کرنے والے عناصر اس کے منظم احتجاج کی نمائندگی نہیں کرتے۔ گرفتار افراد کے خلاف الزامات کی قانونی جانچ ابھی ہونا باقی ہے۔
ہڑتال نے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھایا، مگر اس کے فوری پالیسی اثر کا تعین مذاکرات سے ہوگا۔ پیٹرولیم لیوی وفاقی آمدن کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے کسی کمی کی تجویز کے ساتھ متبادل محصول یا اخراجات میں ردوبدل کا سوال بھی زیر بحث آئے گا۔ حکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹیوں کے ارکان، اجلاس کی تاریخ اور تحریری نکات سامنے آنے کے بعد واضح ہوگا کہ احتجاجی مطالبات کسی قابل نفاذ سمجھوتے میں تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں۔




