اسلام آباد: اینٹی نارکوٹکس فورس نے کہا ہے کہ اس کی انٹیلی جنس معلومات اور امریکا و سری لنکا کے اداروں سے تعاون کے نتیجے میں کراچی اور کولمبو کی بندرگاہوں سے مجموعی طور پر 671 کلوگرام میتھ ایمفیٹامین، جسے عام طور پر آئس کہا جاتا ہے، ضبط کی گئی۔ اے این ایف کے 4 ستمبر کے بیان کے مطابق یہ کارروائیاں ایک بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کی گئیں۔ ضبطگی، ملزمان کی شناخت اور نیٹ ورک کی ساخت سے متعلق تفصیل متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیانات پر مبنی ہے؛ گرفتار افراد کے خلاف الزامات کا حتمی تعین عدالتی کارروائی میں ہوگا۔
اے این ایف نے بتایا کہ اس کی فراہم کردہ قابلِ عمل معلومات پر کراچی پورٹ کے ایک کنٹینر سے 200 کلو آئس برآمد کی گئی۔ ادارے کے مطابق اس مرحلے میں مبینہ نیٹ ورک کے سرغنہ اور مقامی سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا۔ اے این ایف نے مرکزی ملزم کی شناخت احسان اللہ کے نام سے کی اور اسے افغان شہری قرار دیا، تاہم بیان میں مقدمے کی مکمل ایف آئی آر، گرفتاری کی تاریخ، دیگر ملزمان کے نام یا عدالت میں پیشی کی تفصیل نہیں دی گئی۔
پاکستانی ادارے کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست مبینہ سرغنہ سے تفتیش کے دوران حاصل معلومات امریکا کی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن اور سری لنکن حکام کو فراہم کی گئیں۔ بعد ازاں ڈی ای اے اور سری لنکا پولیس نارکوٹکس بیورو نے کولمبو پورٹ پر مشترکہ کارروائی کی۔ اے این ایف کے مطابق وہاں تولیوں میں چھپائی گئی 471 کلو میتھ ایمفیٹامین برآمد ہوئی، جس سے دونوں بندرگاہوں کی مجموعی مقدار 671 کلو بنتی ہے۔
سری لنکن پولیس اور کولمبو میں امریکی سفارت خانے کے پہلے بیانات میں اسی کھیپ کے بعض اعداد مختلف بتائے گئے۔ سری لنکن پولیس نے کولمبو کے کنٹینر سے تقریباً 463 کلو منشیات ملنے اور دو پاکستانی مردوں سمیت ایک مقامی شخص کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔ امریکی سفارت خانے نے ضبط شدہ منشیات کی تخمینی قیمت 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بتائی اور کہا کہ کھیپ غسل کے تولیوں میں چھپا کر سری لنکا کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ 463 اور 471 کلو کے فرق کی باضابطہ وضاحت فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔
نیٹ ورک کی قومی شناخت کے بارے میں بھی بیانات یکساں نہیں۔ اے این ایف نے اسے افغانستان میں قائم نیٹ ورک قرار دیا، مبینہ سرغنہ کو افغان بتایا اور کہا کہ پاکستانی سرزمین کو بین الاقوامی منڈیوں کے لیے عبوری راستے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے برعکس سری لنکن پولیس اور امریکی حکام کے ابتدائی اعلان میں کارروائی کو پاکستانی منشیات نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کہا گیا، جبکہ پکڑے گئے دو افراد کو پاکستانی قرار دیا گیا۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ کسی بین الاقوامی نیٹ ورک میں قیادت، کھیپ کے مقامِ آغاز، ٹرانزٹ سہولت کاروں اور گرفتار افراد کی شہریت الگ سوالات ہو سکتے ہیں؛ دستیاب بیانات سے پورے نیٹ ورک کی حتمی قومی ساخت طے نہیں ہوتی۔
اے این ایف نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان افغان نژاد منشیات کے لیے بیک وقت عبوری راستہ اور متاثرہ ریاست ہے۔ سری لنکا کے وزیرِ عوامی تحفظ نے بھی اپنے ملک کی پارلیمان میں کہا تھا کہ بڑی مقدار میں غیر قانونی منشیات پاکستان اور افغانستان سے سمندر کے راستے سری لنکا پہنچتی ہیں۔ ایسے سرکاری دعووں کی مکمل جانچ کے لیے کھیپ کی فرانزک رپورٹ، شپنگ دستاویزات، مالی لین دین اور ملزمان کے خلاف عدالتی شواہد اہم ہوں گے۔
تازہ پیش رفت بین الاقوامی انٹیلی جنس شیئرنگ اور بندرگاہی نگرانی کے ذریعے دو مقامات پر ضبطگیوں اور گرفتاریوں تک محدود ہے۔ ملزمان کو عدالت سے سزا نہیں ہوئی اور نہ ہی تمام مبینہ سہولت کاروں، مالی معاونین یا منزلوں کی مکمل فہرست جاری کی گئی ہے۔ آئندہ تحقیقات سے یہ واضح ہوگا کہ کراچی اور کولمبو کی کھیپیں ایک ہی سپلائی چین سے کس طرح منسلک تھیں اور مختلف اداروں کے مقدار و نیٹ ورک سے متعلق بیانات میں فرق کیوں آیا۔




