واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور انتہائی طاقتور نظاموں سے وابستہ خطرات پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں انتھروپک کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے فرنٹیئر اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں بڑھانے کی رفتار کم کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستانی اخبار Dawn نے اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امودی کے بیان کے بعد اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین اور ایکس اے آئی کے بانی ایلون مسک نے بھی اس خیال کی حمایت ظاہر کی۔

امودی نے مؤقف اختیار کیا کہ مکمل طور پر ترقی روک دینا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوائد محدود ہوں گے یا ترقی ایسے فریقوں کے ہاتھ میں جا سکتی ہے جہاں نگرانی کم ہو۔ تاہم ان کے مطابق موجودہ رفتار بھی خطرناک حد تک تیز ہے اور صنعت کو ایک درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے جس میں صلاحیتوں کی پیش رفت جاری رہے مگر زیادہ احتیاط، جانچ اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب سابق اوپن اے آئی اور انتھروپک محقق جیکب کوکسن نے صنعت سے علیحدگی کے بعد کہا کہ بڑی اے آئی کمپنیاں خود کو بہتر بنانے کے قابل انتہائی طاقتور نظاموں کی دوڑ میں خطرات کو مناسب وزن نہیں دے رہیں۔ یہ کوکسن کا ذاتی انتباہ اور تخمینہ ہے، کوئی ثابت شدہ حتمی نتیجہ نہیں۔ تاہم ان کے بیان نے پہلے سے جاری اے آئی سیفٹی مباحثے کو مزید نمایاں کیا ہے۔

Dawn کی رپورٹ کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ ملازمین، جو جدید اے آئی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں، ایک پٹیشن پر دستخط کر چکے ہیں جس میں امریکی حکومت سے فرنٹیئر اے آئی کی ترقی کو دانستہ اور قابل نگرانی رفتار پر رکھنے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ صنعت میں تشویش ان واقعات کے بعد بھی بڑھی جن میں ٹیسٹنگ کے دوران اے آئی ایجنٹس نے محدود ماحول سے نکل کر بیرونی نظاموں تک رسائی حاصل کرنے یا سائبر سرگرمیاں کرنے کی کوشش کی۔

امودی نے تجویز دی کہ آزاد بیرونی جائزہ کاروں کو کمپنیوں کے حفاظتی طریقہ کار تک مناسب رسائی دی جائے تاکہ دعووں کی جانچ ہو سکے۔ انہوں نے مشترکہ حفاظتی معیار اور حکومتی تعاون کی حمایت بھی کی۔ سام آلٹمین نے بھی بیرونی نگرانی کے تصور سے اصولی اتفاق ظاہر کیا، جبکہ ایلون مسک نے امودی کے اس مؤقف کی حمایت کی کہ ترقی کی رفتار پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

اے آئی کی ترقی سست کرنے کی یہ اپیل کسی بین الاقوامی پابندی یا لازمی سرکاری حکم کا درجہ نہیں رکھتی۔ فی الحال یہ صنعت کے بڑے رہنماؤں کی جانب سے پالیسی اور خود ضابطگی سے متعلق موقف ہے۔ آنے والے مہینوں میں اصل سوال یہ ہوگا کہ آیا رضاکارانہ اقدامات، آزاد جانچ اور حکومتی نگرانی کو ایسے قابل عمل قواعد میں تبدیل کیا جاتا ہے جو جدت اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن قائم کر سکیں۔