ناگویا: پاکستان کے اولمپک چیمپئن ارشد ندیم ایشین گیمز 2026 کے مردوں کے جیولن تھرو فائنل میں چوتھے نمبر پر رہے اور پوڈیم تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ جاپان کے ناگویا میں پالوما میزوہو اسپورٹس پارک میں ہونے والے مقابلے میں ان کی بہترین تھرو 80.29 میٹر رہی، جو رواں سیزن میں ان کی بہترین کارکردگی تھی۔
Geo Super کے مطابق ارشد ندیم نے پہلی کوشش میں 76.69 میٹر تھرو کی، جبکہ دوسری کوشش فاؤل قرار پائی۔ تیسری کوشش میں انہوں نے 80.29 میٹر کا نشان حاصل کیا، لیکن اس کے بعد باقی تین کوششیں بھی فاؤل رہیں اور وہ اپنے بہترین فاصلے میں اضافہ نہ کر سکے۔ اس نتیجے کے باعث وہ میڈل پوزیشن سے باہر رہے۔
مقابلے میں سری لنکا کے رومیش تھرنگا پتھیراگے نے 88.55 میٹر کی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا۔ بھارتی ایتھلیٹس نے چاندی اور کانسی کے تمغے حاصل کیے، جبکہ ارشد ندیم کا 80.29 میٹر کا فاصلہ کانسی کے لیے درکار نتیجے سے کم رہا۔ مختلف رپورٹس میں چاندی جیتنے والے کھلاڑی کی ریکارڈ شدہ تھرو کے اعشاری اعداد میں معمولی فرق موجود ہے، اس لیے یہاں صرف ان نتائج کو شامل کیا گیا ہے جن پر متعدد رپورٹس متفق ہیں: پتھیراگے کا 88.55 میٹر کا گولڈ، بھارت کا سلور و برانز اور ارشد کی چوتھی پوزیشن۔
یہ مقابلہ ارشد ندیم کے لیے اہم تھا کیونکہ وہ ایشین گیمز میں پاکستان کی بڑی میڈل امیدوں میں شامل تھے۔ اس سے قبل 2026 کامن ویلتھ گیمز میں بھی وہ میڈل حاصل نہیں کر سکے تھے۔ ناگویا میں ان کی 80.29 میٹر کی تھرو اگرچہ سیزن کی ذاتی بہترین کارکردگی بنی، لیکن فائنل کی بلند سطح پر پوڈیم کے لیے کافی ثابت نہ ہوئی۔
ارشد ندیم کی موجودہ کارکردگی کا باضابطہ نتیجہ یہی ہے کہ وہ فائنل میں چوتھے نمبر پر رہے۔ کسی کھلاڑی کی فارم یا مستقبل کی کارکردگی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا اس ایک مقابلے سے ممکن نہیں، تاہم ایشین گیمز کے اس فائنل میں ان کے پاس چھ کوششیں تھیں اور صرف دو قانونی تھروز ریکارڈ ہوئیں۔ آئندہ مقابلوں میں ان کا شیڈول اور تیاری متعلقہ فیڈریشن اور ایتھلیٹ کی جانب سے جاری ہونے والی معلومات کے مطابق واضح ہوگی۔

