پاکستان کے اولمپک چیمپئن ارشد ندیم ناگویا میں ایشین گیمز کے مردوں کے جیولن تھرو فائنل میں 80.29 میٹر کی اپنی سیزن کی بہترین کارکردگی کے باوجود چوتھے نمبر پر رہے۔ ڈان کے مطابق بارش اور پھسلن والے رن وے پر ہونے والے مقابلے میں سری لنکا کے رمیش پتھیراگے نے 88.55 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا۔

ارشد ندیم نے پہلی کوشش میں 76.69 میٹر تھرو کی، جبکہ دوسری کوشش فاؤل قرار پائی۔ تیسری کوشش میں انہوں نے نمایاں بہتری دکھاتے ہوئے 80.29 میٹر کا فاصلہ حاصل کیا اور چوتھی پوزیشن پر آگئے۔ تاہم اس کے بعد ان کی باقی تینوں کوششیں فاؤل ہوئیں، جس کے باعث وہ میڈل پوزیشن تک نہ پہنچ سکے۔

مقابلے میں رمیش پتھیراگے ابتدائی تین راؤنڈز کے بعد 83.56 میٹر کے ساتھ تیسرے مقام پر تھے، لیکن چوتھی کوشش میں انہوں نے 88.33 میٹر پھینک کر برتری حاصل کی۔ آخری راؤنڈ میں انہوں نے اسے مزید بہتر کرتے ہوئے 88.55 میٹر کر دیا۔ بھارت کے یشویر سنگھ نے اپنی آخری کوشش میں ذاتی بہترین 85.72 میٹر کے ساتھ چاندی، جبکہ روہت یادو نے 84.35 میٹر کے ساتھ کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

پاکستان کے دوسرے ایتھلیٹ محمد یاسر 73.50 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ نویں نمبر پر رہے۔ ارشد ندیم کی 80.29 میٹر کی کارکردگی اگرچہ اس سیزن میں ان کی بہترین تھرو تھی، لیکن یہ ان کے پیرس اولمپکس کے 92.97 میٹر کے ریکارڈ سے خاصی کم رہی۔

فائنل کے دوران موسم نے بھی ایتھلیٹس کے لیے حالات مشکل بنائے۔ بارش کے باعث رن وے گیلا اور پھسلن والا تھا، جس سے تکنیکی عمل اور رفتار برقرار رکھنا دشوار ہوا۔ اس کے باوجود تمغہ جیتنے والے تینوں ایتھلیٹس نے 84 میٹر سے زیادہ کی تھرو کی۔ ارشد کے لیے یہ نتیجہ ایک ایسے سیزن کے اختتامی مرحلے میں آیا ہے جس میں وہ اپنی اولمپک فارم کی سطح تک واپس نہیں پہنچ سکے۔ دستیاب نتیجہ صرف اس مقابلے کی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے اور آئندہ مقابلوں کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرتا۔