اسلام آباد: حکومت کی آسان ٹیکس اسکیم کے آغاز کے پہلے ماہ کے دوران تقریباً 10 ہزار دکانداروں نے رجسٹریشن کرائی ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے جمعہ کو اسکیم کے نفاذ سے متعلق اجلاس میں یہ اعداد و شمار پیش کیے، جس میں تاجر نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں تاجر رہنما اجمل بلوچ اور کاشف چوہدری سمیت متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ شرکا نے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور اسکیم کے عملی نفاذ کا جائزہ لیا۔ حکومت کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے ٹیکس ادائیگی کا نسبتاً سادہ نظام فراہم کرنا اور غیر رجسٹرڈ کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی معیشت میں شامل کرنا ہے۔

پاکستان میں ریٹیل اور ہول سیل تجارت معیشت کا بڑا حصہ ہے، لیکن اس شعبے سے براہ راست ٹیکس وصولی طویل عرصے سے پالیسی سازوں کے لیے چیلنج رہی ہے۔ مختلف حکومتیں تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے رجسٹریشن مہمات اور خصوصی اسکیمیں متعارف کراتی رہی ہیں، تاہم ان کی کامیابی کا انحصار سادہ طریقہ کار، اعتماد، قابل پیش گوئی ٹیکس ذمہ داری اور موثر انتظامی رابطے پر رہا ہے۔

آسان ٹیکس اسکیم کے تحت ابتدائی 10 ہزار رجسٹریشن کو حکومت نے پیش رفت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن اسکیم کی مجموعی کامیابی کا اندازہ صرف رجسٹرڈ افراد کی تعداد سے نہیں بلکہ فعال ٹیکس دہندگان، جمع ہونے والے محصولات اور مستقل تعمیل سے ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بھی اہم ہوگا کہ نئے رجسٹرڈ دکاندار کس حد تک باقاعدگی سے گوشوارے اور واجبات ادا کرتے ہیں۔

اجلاس میں تاجر نمائندوں کی شمولیت اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں ریٹیل شعبے پر ٹیکس اقدامات کے خلاف احتجاج اور مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ حکومت اور کاروباری تنظیموں کے درمیان عملی مسائل پر اتفاق رائے اسکیم کے دائرہ کار کو بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ حکام نے رجسٹریشن کے عمل کو جاری رکھنے اور نفاذ میں سامنے آنے والی مشکلات کا جائزہ لینے پر زور دیا۔