ناگویا: پاکستان کی مردوں کی اسکواش ٹیم نے ایشین گیمز میں چاندی کا تمغہ حاصل کر لیا، جہاں 2 اکتوبر کو ناگویا کنجو فتو ایرینا میں کھیلے گئے فائنل میں ملائیشیا نے پاکستان کو 2-0 سے شکست دی۔ پاکستان نے آخری مرتبہ 2010 کے گوانگژو ایشین گیمز میں اسی ایونٹ کا طلائی تمغہ جیتا تھا، جبکہ گزشتہ ایڈیشن میں بھی قومی ٹیم رنرز اپ رہی تھی۔
فائنل کی پہلی ٹائی میں پاکستان کے ناصر اقبال کا مقابلہ ملائیشیا کے امیشن راج چندرن سے ہوا۔ ناصر نے پہلا گیم 11-8 سے جیتا، لیکن ملائیشین کھلاڑی نے اگلے تین گیمز 11-3، 11-6 اور 11-4 سے جیت کر میچ 3-1 اپنے نام کیا اور ملائیشیا کو مجموعی مقابلے میں 1-0 کی برتری دلا دی۔
دوسرے میچ میں پاکستان کے نور زمان نے ملائیشیا کے این یو نگ کا سامنا کیا۔ پانچ گیمز تک جانے والے اس مقابلے میں نور نے سخت مزاحمت کی اور دوسرے و تیسرے گیم میں کامیابی حاصل کرکے ایک مرحلے پر 2-1 کی برتری بھی لی۔ تاہم نگ نے چوتھا گیم 11-4 سے جیت کر میچ برابر کیا اور فیصلہ کن پانچواں گیم بھی 11-4 سے جیت لیا۔ اس نتیجے کے ساتھ ملائیشیا کی مجموعی برتری 2-0 ہوگئی اور تیسرا میچ کھیلنے کی ضرورت نہ رہی۔
پاکستانی اسکواش ٹیم میں محمد اشعب عرفان بھی شامل تھے، جنہیں فائنل کی تیسری ٹائی کھیلنا تھی۔ نور زمان اور اشعب عرفان نے ان کھیلوں کے انفرادی اسکواش مقابلوں میں کانسی کے تمغے بھی حاصل کیے تھے۔ ٹیم ایونٹ میں چاندی پاکستان کے مجموعی تمغوں میں ایک اور اضافہ ہے، تاہم مردوں کی ٹیم کا 2010 کے بعد دوبارہ طلائی تمغہ جیتنے کا انتظار برقرار رہا۔
اسی روز پاکستان کی مردوں کی والی بال ٹیم کو سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن ایران نے 3-0 سے شکست دی، جس کے بعد پاکستان کو کانسی کے تمغے کے مقابلے میں کھیلنا ہے۔ اسکواش کا فائنل البتہ پاکستان کے لیے باقاعدہ تمغے کے ساتھ ختم ہوا اور قومی ٹیم نے دوسری مسلسل ایشین گیمز میں مردوں کے ٹیم ایونٹ کا سلور حاصل کیا۔
