نِشِن: پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم ایشین گیمز کے سیمی فائنل میں سری لنکا کے ہاتھوں آٹھ وکٹوں سے شکست کے بعد طلائی تمغے کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چار وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز بنائے، لیکن سری لنکا نے 178 رنز کا ہدف 17.5 اوورز میں صرف دو وکٹیں گنوا کر حاصل کر لیا۔

پاکستان کی اننگز میں عائشہ ظفر نے 40 گیندوں پر 71 رنز بنائے جبکہ شوال ذوالفقار نے 50 گیندوں پر 54 رنز کی اننگز کھیلی۔ دونوں بیٹرز نے پاکستان کو ایسا مجموعہ فراہم کیا جو سیمی فائنل جیسے میچ میں مسابقتی دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم سری لنکن کپتان چماری اتھاپتھو نے ہدف کے تعاقب میں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بولنگ پر دباؤ قائم کر دیا۔

اتھاپتھو نے 50 گیندوں پر ناقابل شکست 83 رنز بنائے، جن میں سات چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔ ہرشیتھا سماراوکراما 17 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہیں۔ سری لنکا نے ابتدا سے ہی مطلوبہ رن ریٹ کو قابو میں رکھا اور 13 گیندیں قبل ہدف مکمل کر کے فائنل میں جگہ بنا لی۔ پاکستان نے اسپن سے بولنگ کا آغاز کیا، لیکن سری لنکن بیٹرز نے پاور پلے میں تیزی سے رنز بنا کر میچ کا رخ اپنے حق میں کر لیا۔

یہ حالیہ دنوں میں سری لنکا کے خلاف پاکستان کی دوسری اہم شکست تھی۔ دونوں ٹیمیں ویمنز ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں بھی آمنے سامنے آئی تھیں جہاں سری لنکا کامیاب رہا تھا۔ ایشین گیمز میں اس شکست کے بعد پاکستان کے لیے اب طلائی تمغے کا امکان ختم ہو گیا، تاہم ٹیم کے ٹورنامنٹ میں باقی پوزیشن یا ممکنہ کانسی کے تمغے سے متعلق صورت حال مقابلے کے بقیہ شیڈول اور فارمیٹ کے مطابق طے ہوگی۔

پاکستان کی بیٹنگ نے مجموعی طور پر اچھا اسکور بنایا، مگر بولنگ یونٹ سری لنکا کی ٹاپ آرڈر جارحیت کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ سیمی فائنل کے نتیجے نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ بڑے ناک آؤٹ میچوں میں صرف مسابقتی مجموعہ کافی نہیں ہوتا؛ ہدف کے دفاع کے لیے ابتدائی وکٹیں، ڈاٹ بالز اور درمیانی اوورز میں رنز کی رفتار روکنا بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔