چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 22 ستمبر 2026 کو کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ کیا، جہاں فوجی حکام نے انہیں خیبر پختونخوا کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں، سرحدی انتظامات اور صوبے میں تعینات فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ بین الخدماتی شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جاری کردہ معلومات کو سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی، ریڈیو پاکستان اور دیگر قومی ذرائع نے رپورٹ کیا۔

بریفنگ کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افسران اور جوانوں کے حوصلے، تیاری اور پیشہ ورانہ معیار کو سراہا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے تعینات فارمیشنز کو چوکس رہنے اور آپریشنل تیاری کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور دیرپا امن و استحکام کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔

دورے کا ایک اہم پہلو خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کے حالیہ چیلنجز کا جائزہ تھا۔ صوبہ گزشتہ عرصے میں عسکریت پسند حملوں اور سرحد پار سے درپیش خطرات کے باعث انسداد دہشت گردی کارروائیوں کا مرکزی علاقہ رہا ہے۔ پشاور کور کی ذمہ داریوں میں پاک افغان سرحد سے ملحقہ حساس علاقوں میں تعینات فارمیشنز، سرحدی نگرانی اور مختلف سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطہ بھی شامل ہے۔ سرکاری بیان میں آپریشنز کی تفصیلی حکمت عملی یا حساس عملی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دورے کے دوران یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے دفاعِ وطن اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جان دینے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ کور ہیڈکوارٹر پہنچنے پر ان کا استقبال کمانڈر پشاور کور نے کیا۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سکیورٹی آپریشنز اور سرحدی نگرانی پر توجہ بڑھی ہوئی ہے۔ حکام نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز، مقامی سطح پر سکیورٹی فورسز کے درمیان رابطہ اور سرحدی انتظامات اہم عناصر ہیں۔ تاہم ہر کارروائی کے نتائج اور خطرات سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی، اس لیے سرکاری اعداد و شمار اور بیانات کو ان کے ماخذ کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔