تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار تہران کا دورہ کریں گے اور ایک مشترکہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔ ایرانی خبر رساں ادارے IRNA کے حوالے سے ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ اجلاس میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کی شرکت متوقع ہے۔
علی باقری نے ISNA کو دیے گئے انٹرویو میں اس رابطے کو مغربی ایشیا میں ایران کے پیش کردہ ’اندرونی سلامتی‘ یا endogenous security کے تصور پر عمل درآمد کی کوششوں سے جوڑا۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کے سینئر عہدیدار تہران کے سفر کے دوران ایک مشترکہ نشست میں شریک ہوں گے۔ دستیاب رپورٹ میں اجلاس کا مکمل ایجنڈا، قطعی وقت یا ممکنہ مشترکہ اعلامیے کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، اسرائیل، امریکا، یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب سے متعلق سکیورٹی کشیدگی بلند سطح پر ہے۔ حوثیوں نے سعودی تیل تنصیبات اور ریاض ایئرپورٹ پر حملوں کے دعوے کیے ہیں جبکہ سعودی قیادت والا اتحاد یمن میں حوثی اہداف کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ اس ماحول میں تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ سکیورٹی نمائندوں کی ایک ہی نشست میں شرکت سفارتی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عاصم منیر نے اس سے قبل ایران کے سینئر عہدیدار لیفٹیننٹ جنرل محسن رضائی سے ملاقات کے دوران ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری سے رابطے کا ذکر کیا تھا۔ تاہم تازہ اعلان ایرانی حکام کی جانب سے آیا ہے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے اجلاس کے مکمل شیڈول یا نتائج کے بارے میں الگ سرکاری تفصیلات خبر کے وقت تک محدود تھیں۔
پاکستان نے حالیہ علاقائی بحرانوں میں سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر زور دیا ہے۔ سعودی عرب اور ترکی بھی خطے کے بڑے سیاسی و سکیورٹی فریق ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ براہ راست رابطہ کسی ممکنہ غلط فہمی یا مزید عسکری پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اجلاس کی حقیقی اہمیت اس کے ایجنڈے، شرکا کی سطح پر ہونے والی بات چیت اور بعد میں جاری ہونے والے سرکاری بیانات سے واضح ہوگی۔
اس مرحلے پر یہ خبر اجلاس میں متوقع شرکت اور ایرانی عہدیدار کے اعلان سے متعلق ہے؛ اسے کسی نئے دفاعی اتحاد، معاہدے یا مشترکہ فوجی فیصلے کی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایسی کسی پیش رفت کے لیے متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ بیانات اور دستاویزی تفصیلات ضروری ہوں گی۔

