ساؤ پاؤلو: برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے الزام لگایا ہے کہ ساؤ پاؤلو اور ملک کے بعض دوسرے شہروں میں انتخاب کے روز بس سروس میں نمایاں کمی کے باعث متعدد شہری ووٹ ڈالنے سے محروم ہوئے۔ اے ایف پی کے مطابق لولا نے کہا کہ ان کی جانب سے سپریم کورٹ سے انتخابی عمل کا وقت بڑھانے کی درخواست کی جا رہی ہے تاکہ ان لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع مل سکے جو ٹرانسپورٹ کی کمی کی وجہ سے پولنگ مراکز تک نہیں پہنچ سکے۔
لولا نے دعویٰ کیا کہ ساؤ پاؤلو میں تقریباً 40 فیصد بسیں سروس سے ہٹا دی گئی تھیں اور ان کے آبائی شمال مشرقی خطے کے کئی شہروں میں بھی اسی نوعیت کے مسائل پیش آئے۔ انہوں نے اس صورتحال کو دانستہ رکاوٹ قرار دیتے ہوئے مقامی حکام اور بعض ٹرانسپورٹ آپریٹرز پر سخت تنقید کی۔ یہ الزامات لولا کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور تمام متعلقہ بلدیاتی حکام یا آپریٹرز کی ذمہ داری کسی عدالتی فیصلے سے ثابت نہیں ہوئی۔
برازیل میں صدارتی انتخاب انتہائی سخت مقابلے میں ہو رہا ہے۔ 80 سالہ لولا کا مقابلہ دائیں بازو کے سینیٹر فلیویو بولسونارو سے ہے، جنہوں نے رواں ماہ ہونے والے پہلے مرحلے میں لولا سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ ایسے قریبی مقابلے میں ووٹر ٹرن آؤٹ اور شہریوں کی پولنگ مراکز تک رسائی انتخابی نتیجے کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
شمال مشرقی ریاست باہیا کی علاقائی انتخابی عدالت نے مقامی ٹرانسپورٹ سیکریٹری کی گرفتاری کا حکم دیا، جہاں اطلاعات کے مطابق انتخابی دن مفت ٹرانسپورٹ فراہم کرنے میں ناکامی کا معاملہ سامنے آیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایک شہر میں 75 بسیں گیراجوں سے باہر نہیں نکل سکیں۔ پہلے مرحلے میں لولا نے باہیا میں تقریباً 65 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، جس کے باعث وہاں ٹرانسپورٹ میں خلل سیاسی طور پر خاص حساسیت رکھتا ہے۔
سپیریئر الیکٹورل کورٹ کے صدر کاسیو نونس نے صحافیوں سے گفتگو میں تسلیم کیا کہ بعض مقامات پر ٹرانسپورٹ کی مشکلات موجود ہیں اور کہا کہ انہیں حل کیا جا رہا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں عدالت کی جانب سے ملک بھر میں پولنگ کا وقت بڑھانے کے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
برازیل کے انتخابی نظام میں ووٹروں تک رسائی، سرکاری وسائل کے غیر جانبدار استعمال اور مقامی انتظامیہ کے کردار پر سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ موجودہ تنازع میں اصل سوال یہ ہے کہ بس سروس میں کمی انتظامی خرابی تھی یا انتخابی شرکت کو متاثر کرنے کی دانستہ کوشش۔ اس کا حتمی تعین انتخابی حکام اور عدالتی تحقیقات سے ہوگا۔ انتخابی نتیجے پر کسی ممکنہ اثر کے بارے میں بھی سرکاری اعداد و شمار اور قانونی فیصلوں سے پہلے قطعی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

