پیری، جارجیا: جرمن کار ساز ادارے آؤڈی نے امریکی ریاست جارجیا میں 4 ارب ڈالر کی لاگت سے اسمبلی پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتخابی جلسے کے دوران کیا۔ کمپنی کے مطابق یہ آؤڈی کا امریکا میں پہلا اسمبلی پلانٹ ہوگا اور منصوبہ مکمل ہونے پر یہاں سالانہ تقریباً دو لاکھ اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

آؤڈی کے چیف ایگزیکٹو گرنوٹ ڈولنر نے تقریب میں کہا کہ کمپنی اپنی بڑی اور پریمیم ایس یو ویز کی پیداوار میکون، جارجیا میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے اور اسے امریکی مارکیٹ میں طویل مدتی سرمایہ کاری سمجھتی ہے۔ آؤڈی کے مطابق منصوبے سے تقریباً 4,500 ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ تعمیراتی کام اگلے سال شروع کرنے اور پیداوار 2030 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں شروع کرنے کا منصوبہ بتایا گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ پلانٹ میں آؤڈی Q7، Q8 اور Q9 ایس یو ویز اسمبل کیے جانے کی توقع ہے۔ کمپنی ہمسایہ ریاست جنوبی کیرولائنا میں بھی سالانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیاں تیار کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جہاں ووکس ویگن کے آف روڈ برانڈ Scout Motors کا دو ارب ڈالر کا پلانٹ زیر تعمیر ہے۔

ٹرمپ نے اس اعلان کو اپنی آٹو اور تجارتی پالیسی سے جوڑا۔ ان کی حکومت نے گاڑیوں، اسٹیل، ایلومینیم اور پرزوں پر ٹیرف بڑھائے ہیں اور کار ساز کمپنیوں پر امریکی پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ گزشتہ سال انہی ٹیرف کے نتیجے میں آؤڈی کو تقریباً 1.2 ارب یورو کا مالی اثر برداشت کرنا پڑا تھا کیونکہ کمپنی امریکی مارکیٹ کے لیے اپنی تمام گاڑیاں یورپ یا میکسیکو سے درآمد کرتی ہے۔

یہ اعلان 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے کچھ روز قبل ہوا ہے، جبکہ جارجیا میں سینیٹ اور گورنر کے اہم مقابلے جاری ہیں۔ ٹرمپ اور ان کے اتحادی آؤڈی کی سرمایہ کاری کو اس دلیل کے حق میں پیش کر رہے ہیں کہ ٹیرف سے صنعتی پیداوار امریکا واپس آ رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بلند ٹیرف نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور تجارتی غیر یقینی نے بعض سرمایہ کاری فیصلوں کو مؤخر کیا۔

آؤڈی کی فروخت مسلسل دو سال سے دباؤ میں ہے اور 2026 کی پہلی ششماہی میں عالمی فروخت میں سات فیصد کمی رپورٹ ہوئی، جبکہ امریکا میں اس سال فروخت 16 فیصد کم بتائی گئی ہے۔ اس پس منظر میں جارجیا کا منصوبہ کمپنی کی امریکی مارکیٹ میں مقامی پیداوار بڑھانے کی ایک بڑی حکمت عملی ہے، تاہم پلانٹ کی تعمیر اور پیداوار کا آغاز آئندہ کئی سال کے عملی مراحل سے مشروط رہے گا۔