اسلام آباد: پاکستان اور عراق نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید وسعت دینے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان رابطے مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق متعلقہ حکام اور نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں موجودہ تجارتی حجم، نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان اور عراق کے اقتصادی تعلقات میں اشیائے خورونوش، ادویات، تعمیراتی مواد، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ مصنوعات اور خدمات سمیت مختلف شعبوں میں گنجائش موجود ہے۔ عراق ایک بڑی درآمدی منڈی ہے جبکہ پاکستان متعدد زرعی اور صنعتی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست کاروباری روابط بڑھنے سے کمپنیوں کو نئی شراکت داری، تقسیم کے نیٹ ورک اور مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بات چیت میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سرکاری سطح کے معاہدوں کے ساتھ نجی شعبے کی عملی شرکت ضروری ہے۔ کاروباری وفود، تجارتی نمائشیں، چیمبرز آف کامرس کے روابط اور کمپنیوں کے درمیان براہ راست ملاقاتیں ایسی سرگرمیاں ہیں جو ممکنہ تجارت کو حقیقی سودوں میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ اسی طرح ویزا، بینکاری، ادائیگیوں اور نقل و حمل سے متعلق رکاوٹوں کو کم کرنا بھی تجارت بڑھانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں مذہبی سیاحت بھی ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں پاکستانی زائرین عراق کا سفر کرتے ہیں۔ مسافروں اور کاروباری افراد کی آمدورفت کے بہتر انتظامات وسیع تر اقتصادی روابط پر بھی مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم تجارت بڑھانے کے لیے مصنوعات کے معیار، سرٹیفکیشن، کسٹمز اور لاجسٹکس کے طریقہ کار میں قابلِ پیش گوئی نظام ضروری ہوگا۔

دستیاب سرکاری اطلاع میں کسی نئے بڑے تجارتی معاہدے کی حتمی مالیت یا فوری سرمایہ کاری منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو اقتصادی تعاون بڑھانے کے سیاسی اور ادارہ جاتی عزم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ عملی نتائج کا انحصار آئندہ کاروباری وفود، مخصوص شعبہ جاتی معاہدوں، مالیاتی سہولتوں اور دونوں حکومتوں کی جانب سے تجارتی رکاوٹیں کم کرنے کے اقدامات پر ہوگا۔ اگر یہ رابطے مستقل بنیادوں پر جاری رہتے ہیں تو پاکستان کے لیے عراق میں برآمدی مواقع اور عراقی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں منصوبوں کی تلاش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔