ایران نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد تجارت کے لیے بند کر دی ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفارت خانے سے منسوب وضاحت کے مطابق ایرانی جانب سے پاکستان کو ایرانی مصنوعات کی برآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی اور سرحدی تجارت معمول کے ضابطوں کے تحت جاری ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب سرحدی نقل و حرکت میں رکاوٹ اور ایل پی جی سمیت بعض اشیاء کی رسد متاثر ہونے کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق ایرانی مؤقف میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے برآمدی سامان کی پاکستان روانگی پر کوئی عمومی پابندی نہیں۔ حکام نے سرحد مکمل طور پر بند ہونے کے تاثر کو درست قرار نہیں دیا۔ اس بیان کا مقصد حالیہ دنوں میں تجارت اور سرحدی گزرگاہوں کی صورت حال سے متعلق پیدا ہونے والی غیر یقینی کو واضح کرنا تھا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارت خصوصاً بلوچستان سے ملحقہ گزرگاہوں کے ذریعے خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی مقامی منڈیوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی اور بعض انتظامی رکاوٹوں کے باعث ایل پی جی کی رسد پر دباؤ بڑھا تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں قیمتوں اور دستیابی کے بارے میں خدشات سامنے آئے۔
گبد-ریمدان سرحدی گزرگاہ پر پاکستان نے ایک ہفتے کی معطلی کے بعد تجارتی نقل و حرکت دوبارہ شروع کی تھی اور پہلے سے موجود کھیپوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔ ایرانی تردید اسی وسیع تر پس منظر میں سامنے آئی ہے، تاہم دونوں جانب مختلف گزرگاہوں پر عملی نقل و حرکت مقامی سکیورٹی اور انتظامی فیصلوں سے متاثر ہو سکتی ہے۔
تازہ ایرانی بیان کو مکمل سرحدی صورت حال کے بجائے ایران کی جانب سے تجارتی پابندی نہ ہونے کی سرکاری وضاحت سمجھنا ضروری ہے۔ زمینی تجارت کی حقیقی رفتار، ٹرکوں کی کلیئرنس اور مخصوص اشیاء کی رسد ہر گزرگاہ پر الگ انتظامی حالات سے مشروط رہتی ہے۔ اس کے باوجود ایرانی حکام کی وضاحت دوطرفہ تجارت کے تسلسل اور پاکستان کو ایرانی مصنوعات کی برآمد کے حوالے سے ایک اہم پالیسی مؤقف ہے۔
