کراچی: بیسٹ وے گروپ نے چینی گاڑیاں بنانے والی کمپنی گیلی آٹو کو پاکستان کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق لانچ کے موقع پر تین ماڈلز پیش کیے گئے جن میں EX2 کمپیکٹ الیکٹرک ہیچ بیک، EX5 الیکٹرک اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل اور Starray EM-i شامل ہیں، جو برقی ڈرائیو اور رینج بڑھانے والی ٹیکنالوجی کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
گیلی دنیا کی بڑی چینی آٹوموٹیو کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور متعدد بین الاقوامی برانڈز اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری رکھتی ہے۔ پاکستان میں اس کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مقامی آٹو مارکیٹ میں بیٹری الیکٹرک گاڑیوں، پلگ اِن ہائبرڈ اور دیگر نئی توانائی والی گاڑیوں کی پیشکش تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایندھن کی قیمت، درآمدی لاگت اور چارجنگ انفراسٹرکچر صارفین کے انتخاب میں اہم عوامل بن چکے ہیں۔
ابتدائی لائن اپ میں EX2 کو شہری استعمال کے لیے نسبتاً چھوٹی مکمل برقی گاڑی کے طور پر رکھا گیا ہے جبکہ EX5 ایک بڑی الیکٹرک ایس یو وی ہے۔ Starray EM-i کا نظام مکمل بیٹری گاڑی کے مقابلے میں طویل سفر کے لیے اضافی توانائی کا ذریعہ فراہم کرنے کے تصور پر مبنی ہے۔ کمپنی نے ان ماڈلز کے ذریعے مختلف قیمت اور استعمال کے طبقات کو ہدف بنانے کی کوشش کی ہے۔
پاکستانی آٹو صنعت میں حالیہ برسوں کے دوران چینی برانڈز کی موجودگی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ نئی توانائی والی گاڑیوں کے لیے حکومتی پالیسی، درآمدی ڈیوٹیز، مقامی اسمبلی کی سطح اور چارجنگ نیٹ ورک کی دستیابی اس شعبے کی رفتار متعین کریں گے۔ صارفین کے لیے گاڑی کی ابتدائی قیمت کے ساتھ بیٹری وارنٹی، بعد از فروخت سروس، اسپیئر پارٹس اور ری سیل ویلیو بھی اہم عملی عوامل ہیں۔
گیلی کی پاکستان میں طویل مدتی مسابقت کا انحصار صرف نئے ماڈلز کی لانچ پر نہیں بلکہ ڈیلرشپ نیٹ ورک، سروس سہولیات، مقامی پارٹس اور ممکنہ اسمبلی منصوبوں پر بھی ہوگا۔ موجودہ لانچ نے برانڈ کی تجارتی موجودگی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ آئندہ فروخت اور مقامی آپریشنز کے اعداد و شمار سے واضح ہوگا کہ پاکستانی صارفین الیکٹرک اور رینج ایکسٹینڈڈ ماڈلز کو کس سطح پر قبول کرتے ہیں۔

