اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے گندم کی مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام اور دستیابی برقرار رکھنے کے لیے نگرانی کا نظام مزید مضبوط کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے حالیہ گندم قیمت کے تعین کو ایسا متوازن اقدام قرار دیا جس کا مقصد کسانوں کی معاونت کے ساتھ ملکی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران کسانوں کو پیداواری لاگت میں اضافے کا سامنا رہا ہے اور حکومت کو توقع ہے کہ موجودہ قیمت کا تعین کاشت کاروں کو گندم کا زیر کاشت رقبہ بڑھانے اور زرعی مداخل پر سرمایہ لگانے کی ترغیب دے گا۔ ان کے مطابق متعلقہ فریقوں نے موجودہ قیمت کے تعین کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قیمت مقرر کرنا کافی نہیں بلکہ مارکیٹ میں گندم کی دستیابی اور قیمتوں کی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے۔
گندم پاکستان کی بنیادی غذائی فصل ہے اور اس کی قیمت میں تبدیلی کا اثر آٹے اور گھریلو خوراک کے اخراجات پر براہ راست پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے سرکاری پالیسی میں ایک جانب کسان کے لیے ایسی قیمت کی ضرورت رہتی ہے جو پیداواری اخراجات اور آئندہ فصل کی ترغیب کو مدنظر رکھے، جبکہ دوسری جانب صارفین کے لیے مارکیٹ میں مناسب نرخ پر مسلسل دستیابی بھی اہم ہوتی ہے۔ وزیر کا بیان اسی دوہرے ہدف پر مرکوز ہے۔
حکومت کی جانب سے نگرانی مضبوط کرنے کی ہدایت کا عملی نتیجہ اس بات سے واضح ہوگا کہ گندم کی رسد، ذخیرہ اور مارکیٹ قیمتوں میں غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کتنی بروقت ہوتی ہے۔ سرکاری بیان میں کسی نئے انتظامی ادارے، اضافی مالی پیکیج یا نگرانی کے مخصوص طریقہ کار کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے موجودہ اعلان کو پالیسی ہدایت اور مارکیٹ مانیٹرنگ پر زور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آئندہ گندم سیزن میں کسانوں کا ردعمل اہم ہوگا کیونکہ وفاقی وزیر نے واضح طور پر موجودہ قیمت کو زیادہ کاشت اور زرعی مداخل میں سرمایہ کاری کی ترغیب سے جوڑا ہے۔ فصل کے زیر کاشت رقبے، پیداوار، مارکیٹ رسد اور صارف سطح کی قیمتوں کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد ہی یہ اندازہ ہو سکے گا کہ قیمت کے تعین اور نگرانی کی حکمت عملی نے مطلوبہ استحکام حاصل کیا یا نہیں۔

