لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی صنعتوں کو ملکی معیشت کی ترقی اور استحکام کے لیے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم نے لاہور میں ایل سی سی آئی کے صدر علی حسام اصغر سے ملاقات کی، جس میں صنعتی مسائل، تجارت، کاروباری سہولتوں اور روزگار بڑھانے کے اقدامات پر گفتگو ہوئی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر معاشی سرگرمی بڑھانے اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ملاقات میں مجموعی اقتصادی صورتحال، کاروبار اور تجارت کے فروغ، صنعتوں کو درپیش رکاوٹوں اور کاروباری برادری کے لیے سہولتوں کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

لاہور چیمبر کے صدر نے صنعت اور تجارت سے متعلق مختلف تجاویز وزیراعظم کے سامنے رکھیں۔ ان تجاویز کا مرکزی مقصد پیداوار بڑھانا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور کاروباری رکاوٹوں کو کم کرنا بتایا گیا۔ وزیراعظم نے ان سفارشات کو براہ راست پالیسی اعلان کے طور پر منظور کرنے کے بجائے ان کے جائزے کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا، اس لیے عملی اقدامات کمیٹی کی سفارشات اور بعد کی سرکاری منظوری سے مشروط ہوں گے۔

پاکستان کی معاشی حکمت عملی میں برآمدات بڑھانے کو اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ مستقل برآمدی آمدن زرمبادلہ کے ذخائر، صنعتی پیداوار اور روزگار کو سہارا دے سکتی ہے۔ برآمد کنندگان طویل عرصے سے توانائی کی لاگت، مالیاتی اخراجات، ٹیکس، ریگولیٹری عمل اور عالمی مسابقت جیسے مسائل کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ حکومت بھی حالیہ پالیسی بیانات میں برآمدی نمو اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کو ترجیح قرار دیتی رہی ہے۔

نئی کمیٹی کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ لاہور چیمبر کی تجاویز میں سے کن اقدامات کو قابل عمل سمجھا جاتا ہے، ان کے مالی اثرات کیا ہوں گے اور متعلقہ وزارتیں انہیں کس مدت میں نافذ کر سکتی ہیں۔ کاروباری برادری کے لیے فوری اہمیت ان فیصلوں کی ہوگی جو پیداواری لاگت، ریگولیٹری رکاوٹوں اور سرمایہ کاری کے ماحول میں قابل پیمائش بہتری لائیں۔ ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔