اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے موسمیاتی تبدیلی اور تیز آبادی میں اضافے کو پاکستان کے لیے وجودی نوعیت کے چیلنج قرار دیتے ہوئے آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت، پیشگی تیاری اور موسمیاتی لچک مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سبکدوش ہونے والے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور نئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل حسن خٹک سے ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات میں پاکستان کو درپیش سیلاب، شدید بارشوں، گرمی کی لہروں اور دیگر موسمیاتی خطرات کے تناظر میں ادارہ جاتی تیاری کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق گفتگو کا مرکز ایسے نظام مضبوط کرنا تھا جو قدرتی آفات سے پہلے خطرات کی شناخت، بروقت ردعمل، امدادی کارروائی اور بحالی کے مراحل کو زیادہ مؤثر بنا سکیں۔
پاکستان گزشتہ برسوں میں بڑے سیلابوں اور شدید موسمی واقعات سے بھاری انسانی اور معاشی نقصان اٹھا چکا ہے۔ ایسے واقعات سے بنیادی ڈھانچے، زراعت، گھروں، روزگار اور سرکاری مالی وسائل پر بیک وقت دباؤ پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے موسمیاتی لچک اب صرف ماحولیاتی پالیسی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ مالیاتی منصوبہ بندی، ترقیاتی اخراجات اور قومی معاشی استحکام سے بھی براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
وزیر خزانہ نے این ڈی ایم اے کی آفات سے نمٹنے اور خطرات کی نگرانی میں کردار کو اہم قرار دیا اور ادارہ جاتی تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین کی تبدیلی کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں موجودہ نظام، مستقبل کی ترجیحات اور وفاقی سطح پر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری پر بھی بات ہوئی۔ نئے چیئرمین کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہوگا کہ موسمیاتی خطرات کی بڑھتی شدت کے مقابلے میں پیشگی تیاری اور مقامی سطح کی صلاحیت کو کس طرح بہتر کیا جائے۔
آبادی میں تیز اضافہ بھی حکومت کے لیے ترقیاتی منصوبہ بندی، شہری خدمات، پانی، خوراک، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں دباؤ بڑھاتا ہے۔ جب یہ دباؤ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ ملتا ہے تو آفات کے دوران کمزور آبادیوں کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ وزیر خزانہ کا بیان اسی باہمی تعلق کو اجاگر کرتا ہے کہ موسمیاتی لچک اور آبادی سے متعلق پالیسیوں کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
حکومت کے لیے اگلا عملی مرحلہ خطرات میں کمی کے منصوبوں، موسمیاتی مالیات، ابتدائی وارننگ نظام اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کو وسائل کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ ملاقات میں کسی نئے مالی پیکیج یا مخصوص بجٹ رقم کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے گفتگو کو پالیسی ترجیحات اور ادارہ جاتی تیاری کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

