آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے لیے اپنے 13 رکنی اسکواڈ میں ایک تبدیلی کرتے ہوئے اوپنر جیک ویدرالڈ کی جگہ بائیں ہاتھ کے بلے باز میتھیو رینشا کو شامل کر لیا ہے۔ میچ 22 سے 26 اگست تک میکے میں کھیلا جائے گا اور آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے۔ بنگلہ دیش نے پہلا ٹیسٹ نو وکٹوں سے جیتا تھا، اس لیے میزبان ٹیم کے لیے دوسرا مقابلہ سیریز برابر کرنے اور چیمپئن شپ پوائنٹس بچانے کے اعتبار سے اہم ہے۔
ویدرالڈ پہلے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں 23 اور صفر رنز بنا سکے۔ آسٹریلیا کی پہلی اننگز صرف 198 رنز پر ختم ہوئی تھی اور ٹاپ آرڈر کی مجموعی ناکامی کے بعد سلیکٹرز نے اوپننگ کے شعبے میں تبدیلی کی۔ رینشا کی ممکنہ واپسی تین برس سے زائد عرصے بعد ٹیسٹ سطح پر ان کا پہلا موقع ہو سکتی ہے۔ ان کا آخری ٹیسٹ 2023 میں دہلی میں بھارت کے خلاف تھا، جہاں وہ ڈیوڈ وارنر کے کنکشن متبادل کے طور پر میدان میں آئے تھے۔
رینشا اس کے بعد آسٹریلیا کے لیے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیل چکے ہیں، مگر ٹیسٹ ٹیم میں مستقل جگہ نہیں بنا سکے۔ ان کی شمولیت سے ٹیم کے پاس اوپننگ میں بائیں ہاتھ کا متبادل اور نئی گیند کے خلاف تجربہ دستیاب ہوگا۔ حتمی الیون کا اعلان ابھی باقی ہے، اس لیے رینشا کی اسکواڈ میں واپسی انتخاب کا امکان پیدا کرتی ہے، خودکار طور پر پلیئنگ الیون میں جگہ کی ضمانت نہیں دیتی۔
مڈل آرڈر میں مارنس لبوشین اسکواڈ میں برقرار ہیں۔ کوچ اینڈریو میکڈونلڈ نے تسلیم کیا کہ لبوشین کو اپنی جگہ مضبوط کرنے کے لیے زیادہ رنز درکار ہیں۔ پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ان کے 31 رنز کے دوران کچھ شاٹس اور حرکت بہتر دکھائی دی، لیکن کوچ کے مطابق اچھی ابتدا کو بڑی اننگز میں بدلنا ضروری ہے۔ ریزرو وکٹ کیپر بلے باز جوش انگلس اور فاسٹ بولر اسکاٹ بولینڈ بھی اسکواڈ میں موجود ہیں اور ٹیم انتظامیہ ضرورت کے مطابق تبدیلی کر سکتی ہے۔
پیٹ کمنز کی قیادت میں اسکواڈ میں اسکاٹ بولینڈ، ایلکس کیری، کیمرون گرین، جوش ہیزل ووڈ، ٹریوس ہیڈ، جوش انگلس، مارنس لبوشین، نیتھن لائن، میتھیو رینشا، اسٹیو اسمتھ، مچل اسٹارک اور بیو ویبسٹر شامل ہیں۔ پہلے ٹیسٹ کی شکست نے واضح کیا کہ آسٹریلیا کو صرف اوپننگ نہیں بلکہ پوری بیٹنگ ترتیب میں لمبی شراکتیں درکار ہیں۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کو پہلی کامیابی کے بعد اسی نظم کے ساتھ دباؤ برقرار رکھنے کا موقع ملے گا۔ میکے میں فیصلہ کن ٹیسٹ یہ طے کرے گا کہ آسٹریلیا ایک تبدیلی سے اپنے ٹاپ آرڈر کا ردعمل بہتر بنا پاتا ہے یا بنگلہ دیش سیریز اپنے نام کرتا ہے۔




