کوئٹہ: بلوچستان کے تربت، مستونگ اور کوئٹہ اضلاع میں فوج اور پولیس کی مختلف کارروائیوں کے دوران کم از کم 16 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ تعداد سرکاری میڈیا اور متعلقہ حکام کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔

ڈان کے مطابق ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے تربت کے جوسک علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی جس میں دو دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سرکاری بیان میں انہیں ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ”فتنہ الہندوستان“ سے منسلک قرار دیا گیا۔ پاکستان یہ اصطلاح بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح گروہوں کے لیے استعمال کرتا ہے اور بھارت پر ان کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا ہے؛ بھارت ایسے پاکستانی الزامات کی عمومی طور پر تردید کرتا رہا ہے، اس لیے اس نسبت کو سرکاری دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان ٹیلی وژن کے مطابق بلوچستان میں ”رد الفتنہ 3“ کے تحت کارروائیاں بھی جاری رہیں۔ کوئٹہ کے نواح میں اغبرگ پولیس اسٹیشن کو بدھ کی صبح نشانہ بنایا گیا۔ صدر ڈویژن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس شفقت جنجوعہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی اور فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے پانچ حملہ آور مارے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ ناکام بنایا گیا اور اسلحہ و گولہ بارود بھی قبضے میں لیا گیا۔

رپورٹ میں مستونگ سمیت دیگر کارروائیوں کو ملا کر بدھ کے روز ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 16 بتائی گئی ہے۔ اس سے قبل منگل کو سرکاری میڈیا نے سران تنگی میں ایک انٹیلی جنس آپریشن کے دوران چھ دہشت گردوں کی ہلاکت اور نو مشتبہ افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی، جبکہ پیر کو پنجگور میں چار دہشت گردوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی تھی۔

اسی روز ایدھی فاؤنڈیشن نے الگ واقعے میں دعویٰ کیا کہ قلات واپس آنے والی اس کی ایک ایمبولینس نامعلوم مسلح افراد نے چھین لی اور کارکن کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے ذمہ داروں کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی سرکاری تعین سامنے نہیں آیا۔ بلوچستان میں حالیہ سکیورٹی واقعات کے تناظر میں مختلف اضلاع میں کارروائیاں جاری ہیں، تاہم ہر آپریشن کی تفصیلی آزادانہ تصدیق محدود ہے اور ہلاکتوں و وابستگیوں کے اعداد سرکاری ذرائع سے منسوب ہیں۔