اسلام آباد: پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی متعدد کارروائیوں میں 48 شدت پسند مارے گئے۔ فوجی بیان کے مطابق آپریشن مستونگ، سبی، کوئٹہ اور قلات کے علاقوں میں کیے گئے اور کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

فوج نے مارے جانے والے افراد کو کالعدم مسلح گروہوں سے وابستہ قرار دیا اور سرکاری بیانیے میں ان کے لیے وہ اصطلاحات استعمال کیں جو پاکستانی حکام عموماً تحریک طالبان پاکستان اور بعض بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے ارکان کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ فوجی بیان میں انہیں بھارت کی سرپرستی حاصل ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا، تاہم اس الزام کے ساتھ عوامی سطح پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ بھارت ماضی میں پاکستان کی ایسی نسبتوں کی تردید کرتا رہا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فوج نے بتایا کہ یہ کارروائیاں بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں اور علاقے میں ممکنہ دیگر مسلح افراد کی تلاش کا عمل بھی جاری رکھا گیا۔ بلوچستان کئی برسوں سے علیحدگی پسند شورش اور دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں پاکستان کے مختلف حصوں میں شدت پسند حملوں میں اضافہ حکام کے لیے ایک بڑا سلامتی چیلنج بنا ہوا ہے۔

فوجی اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل پاکستان نے شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں افغانستان سے داخلے کی کوشش کے دوران 15 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ اسلام آباد طویل عرصے سے کابل پر الزام لگاتا آیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان مخالف مسلح گروہوں کو پناہ یا عملی گنجائش ملتی ہے، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

بلوچستان کی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد اور مارے جانے والے افراد کی شناخت کے بارے میں بنیادی معلومات فوجی بیان سے حاصل ہوئی ہیں۔ آزاد ذرائع سے ہر ہلاکت، وابستگی یا کارروائی کی مکمل تفصیل فوری طور پر الگ سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسی لیے خبر میں فوجی دعووں کو سرکاری موقف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، نہ کہ ان تمام نسبتوں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر۔

حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ خطے میں پائیدار سلامتی کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور سیاسی و سفارتی رابطے بھی اہم رہیں گے۔ بلوچستان میں طویل مدتی استحکام کا مسئلہ محض فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں اور اس سے انتظامی، سیاسی، معاشی اور مقامی نمائندگی کے سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔