اسلام آباد: وفاقی حکومت نے میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا قومی رابطہ کار مقرر کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرری نیکٹا ایکٹ 2013 کی متعلقہ شق کے تحت سیکنڈمنٹ بنیاد پر کی گئی ہے اور اس کی مدت تین سال ہوگی، جبکہ تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل انٹر سروسز انٹیلی جنس میں ایک اہم ذمہ داری پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کی نیکٹا میں تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کو دہشت گردی کے دوبارہ ابھرتے خطرات، صوبوں اور وفاقی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور قومی سطح پر انسداد دہشت گردی پالیسی کے مؤثر نفاذ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
نیکٹا کو پاکستان میں انسداد دہشت گردی سے متعلق پالیسی سازی، مختلف سویلین و سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ اور خطرات کے تجزیے کے لیے مرکزی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ تاہم مختلف ادوار میں اس کی ادارہ جاتی فعالیت، اختیارات اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ عملی ہم آہنگی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ نئی تقرری کو اسی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ قومی رابطہ کار کا منصب پالیسی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی رابطے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق نیکٹا کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ماضی میں یہ تجویز زیر غور رہی تھی کہ اتھارٹی کی قیادت ایسے افسر کو دی جائے جس کے پاس سکیورٹی یا انٹیلی جنس امور کا وسیع تجربہ ہو۔ یہ مؤقف متعلقہ عہدیدار سے منسوب ہے اور اسے حکومتی فیصلے کی سرکاری توجیہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں تقرری کی مدت اور قانونی بنیاد واضح کی گئی ہے، تاہم نیکٹا کے تنظیمی ڈھانچے یا آئندہ انسداد دہشت گردی حکمت عملی میں کسی الگ تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت میجر جنرل فیصل نصیر کی بطور قومی رابطہ کار تعیناتی تک محدود ہے۔




