بلوچستان کے محکمہ صحت نے سرکاری ڈیوٹی سے طویل اور غیر مجاز غیر حاضری پر 72 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق طبی عملے کی حاضری کی نگرانی کے لیے متعارف کرائے گئے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے تحت غیر حاضری کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد متعلقہ ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل کی گئی۔
محکمہ صحت کے سیکریٹری کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق برطرف کیے گئے ملازمین میں بی پی ایس 17 کے میڈیکل افسران اور بی پی ایس 18 کے سینئر میڈیکل افسران شامل ہیں۔ کارروائی بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کی دفعہ 4(B)(viii) کے تحت کی گئی اور برطرفی کے احکامات فوری طور پر نافذ کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈاکٹروں کی سرکاری ڈیوٹی سے غیر مجاز غیر حاضری مسلسل جاری تھی۔
صوبائی محکمہ صحت کے مطابق حالیہ کارروائی کے بعد غیر حاضری اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر ملازمت سے برطرف کیے جانے والے محکمہ صحت کے ملازمین کی مجموعی تعداد 200 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ غیر حاضری کی بنیاد پر ملازمین کی تنخواہوں سے اب تک مجموعی طور پر 41 کروڑ روپے کی کٹوتی کی جا چکی ہے۔ تقریباً 11 ہزار ملازمین کو حاضری اور نظم و ضبط کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ مزید 800 ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے۔
بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق برطرف کیے گئے ڈاکٹروں کو متعدد بار نوٹس دے کر ڈیوٹی پر واپس آنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم انہوں نے ان نوٹسز کا جواب نہیں دیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ سرکاری طبی عملے کی غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کے لیے حکومت کی پالیسی عدم برداشت پر مبنی ہے اور صوبے میں صحت کی سہولتوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نگرانی کا نظام سخت کیا جا رہا ہے۔
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ سرکاری ہسپتالوں اور مراکز صحت میں عملے کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے اے آئی پر مبنی حاضری نظام اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات برطرفیوں، نوٹسز اور تنخواہوں کی کٹوتی کی تصدیق کرتی ہیں، تاہم ہر انفرادی ملازم کے کیس کی تفصیلات الگ الگ جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے حالیہ کارروائی کو محکمہ صحت کی مجموعی انتظامی اور تادیبی مہم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کا اعلان صوبائی حکومت نے صحت کی خدمات میں حاضری اور جواب دہی بہتر بنانے کے مقصد سے کیا ہے۔

