پشاور ہائیکورٹ نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت زیرِ حراست پاکستان تحریک انصاف کے متعدد کارکنوں کو تقریباً 35 آئینی درخواستوں میں عبوری ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست گزاروں کو دو دو ضمانتی مچلکے، ہر ایک ایک لاکھ روپے مالیت کے، متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے اطمینان کے مطابق جمع کرانے کی ہدایت کی۔ مقدمات کی آئندہ سماعت 12 نومبر مقرر کی گئی ہے۔

درخواستیں اکبر شاہ اور دیگر زیرِ حراست افراد کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں سے زیادہ تر مردان سینٹرل جیل میں قید بتائے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں نے ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت، زیادہ تر صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے حراستی احکامات کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ یہ گرفتاریاں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کی گئی تھیں۔

عدالت نے اپنے عبوری حکم میں واضح کیا کہ ضمانت کا یہ ریلیف صرف عارضی نوعیت کا ہے اور اسے حراستی احکامات کی قانونی حیثیت یا درخواست گزاروں کے حتمی حق میں عدالتی رائے نہیں سمجھا جائے گا۔ بینچ نے کہا کہ درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سمیت تمام قانونی سوالات مناسب مرحلے پر طے کیے جائیں گے۔ اس وضاحت کا مطلب ہے کہ عدالت نے فی الحال صرف حراست کے دوران عبوری آزادی کا معاملہ طے کیا ہے، اصل قانونی تنازع پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

بینچ نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو پہلے سے دی گئی ہدایات کے مطابق رپورٹس جمع کرانے کا بھی کہا، جن میں زیرِ حراست افراد کے خلاف کارروائی کے اسباب اور حالات بیان کیے جانے تھے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ سابقہ ہدایات کے باوجود یہ رپورٹس موصول نہیں ہوئی تھیں، اس لیے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر یہ دیکھا گیا کہ آیا درخواست گزار عبوری ریلیف کے اہل ہیں یا نہیں۔

درخواست گزاروں کے وکلا کا مؤقف تھا کہ متعدد حراستی احکامات ایک جیسے متن پر مشتمل ہیں اور ان میں کسی مخصوص واقعے، انفرادی عمل یا ایسے واضح حقائق کی تفصیل موجود نہیں جو حکام کی بیان کردہ خدشات کی بنیاد بن سکیں۔ یہ وکلا کے دلائل ہیں اور عدالت نے ابھی ان دعوؤں کی حتمی قانونی توثیق نہیں کی۔

عدالت نے اس سے پہلے تین دیگر درخواستوں میں دیے گئے اسی نوعیت کے عبوری ریلیف کا حوالہ بھی دیا اور اسے موجودہ درخواستوں پر غور کے لیے متعلقہ عدالتی نظیر قرار دیا۔ آئندہ سماعت میں سرکاری رپورٹس اور فریقین کے دلائل کے بعد حراستی احکامات کی قانونی حیثیت سے متعلق مزید پیش رفت متوقع ہے۔