خیبرپختونخوا حکومت مانسہرہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں پینے کے پانی کی دیرینہ ضرورت پوری کرنے کے لیے تقریباً 19 ارب روپے کی گریویٹی فلو واٹر سپلائی اسکیم پر عملدرآمد کی تیاری کر رہی ہے۔ منصوبے کے ڈائریکٹر عابد شاہ کے مطابق وفاقی حکومت نے سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ کے ساتھ منصوبے کی مالی معاونت کے لیے معاہدہ کیا ہے اور ضروری انتظامی مراحل مکمل ہونے کے بعد تعمیراتی کام جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
منصوبے کے تحت پانی کا ذریعہ نیلی ندی ہوگا، جو کاغان اور منور وادیوں کے درمیان ماحولیاتی طور پر حساس شران کے علاقے میں واقع ہے۔ وہاں سے مانسہرہ تک تقریباً 65 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کی تجویز ہے۔ اسکیم میں جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، ذخیرہ آب کے ریزروائرز اور بہتر تقسیمِ آب کا نیٹ ورک بھی شامل ہوگا۔ منصوبہ روایتی پمپنگ کے بجائے قدرتی ڈھلوان اور کشش ثقل سے پانی منتقل کرنے کے اصول پر قائم ہے، جس سے بجلی کے اخراجات کم کرنے اور طویل مدت میں آپریشن کو زیادہ پائیدار بنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پروجیکٹ انتظامیہ کے مطابق صوبائی پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ منصوبے پر پیش رفت کر رہا ہے اور سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ، وفاقی اقتصادی امور ڈویژن اور خیبرپختونخوا پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رابطہ جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ بھی زمین، مقامی انتظامی امور اور بروقت عملدرآمد کے سلسلے میں تعاون کر رہی ہے۔
حکام نے منصوبے کو مانسہرہ اور مضافاتی آبادیوں کے لیے محفوظ، قابل اعتماد اور نسبتاً پائیدار پینے کے پانی کی فراہمی سے جوڑا ہے۔ تاہم منصوبہ ابھی تکمیل کے مرحلے میں نہیں پہنچا اور اس کی عملی افادیت تعمیر، پانی کی صفائی، تقسیم کے نیٹ ورک اور ماحولیاتی تقاضوں پر مؤثر عملدرآمد سے مشروط ہوگی۔ دستیاب معلومات کے مطابق سعودی معاونت منصوبے کی مالی ضروریات کے ایک نمایاں حصے کے لیے ہے، جبکہ متعلقہ پاکستانی ادارے اس کے انتظامی اور تکنیکی نفاذ میں شریک ہیں۔

