مسلسل اپ ڈیٹس

خیبرپختونخوا: گورنر راج/ایمرجنسی، گرفتاریاں اور سیاسی ردعمل

وفاقی حکومت کی 11 اکتوبر کی ایمرجنسی/گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں نافذ انتظامی اقدامات اور ان کے ردِعمل سے متعلق جاری واقعہ۔ اس پس منظر میں ایم پی او کے تحت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا اور پشاور ہائیکورٹ نے 28 گرفتار شدگان کو عبوری ضمانت دی؛ دیگر علاقوں (مثلاً صوابی) سے 122 مزید پی ٹی آئی کارکنان نے اپنی حراست کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے اور گرفتاریاں/قانونی چیلنجز زیرِ سماعت ہیں۔ اسی دورانیے میں وفاقی انتظامیہ نے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) قائم کی؛ جے یو آئی ف خیبرپختونخوا کی صوبائی جنرل کونسل نے اس انتظامی ڈھانچے کو مسترد کرتے ہوئے اے آر ڈی سی میں نامزد چار پارٹی ارکان کو تین دن میں استعفیٰ دینے یا رکنیت معطلی کی ہدایت جاری کی۔ اجلاس صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن کی صدارت میں ہوا اور جے یو آئی ف نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو غیر جمہوری قرار دیا؛ نامزد ارکان میں احسان اللہ (کرَم)، عزت اللہ (تیراہ، خیبر)، عبدالحلیم قصوریہ (ڈیرہ اسماعیل خان) اور عمر بھٹنی (لکی مروت) شامل بتائے گئے ہیں جبکہ باجوڑ سے سابق رکن اسمبلی شہاب الدین خان نے پہلے ہی شمولیت سے انکار کیا تھا۔ آئندہ پیش رفت میں گرفتاریوں کی قانونی کارروائیاں، اے آر ڈی سی میں استعفے یا نمائندگی کی تبدیلی اور ان کے مقامی سیاسی اثرات شامل ہوں گے۔

2 خبریںانتہائی اہمآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

خیبرپختونخوا: گورنر راج/ایمرجنسی، گرفتاریاں اور سیاسی ردعمل | اردو ہیڈ لائنز