جمعیت علمائے اسلام ف کی خیبرپختونخوا تنظیم نے نئے قائم کردہ ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل، اے آر ڈی سی، میں مقرر اپنے ارکان کو تین دن کے اندر عہدے چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ پارٹی نے متنبہ کیا ہے کہ حکم پر عمل نہ کرنے والے ارکان کو پارٹی رکنیت کی معطلی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ مفتی محمود مرکز میں صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن کی صدارت میں ہونے والے جے یو آئی ف کی صوبائی جنرل کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا عطاء الحق درویش کے بیان کے مطابق اے آر ڈی سی میں مقرر پارٹی ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ پارٹی ترجمان حاجی عبدالجلیل جان نے بتایا کہ چار ارکان، دو ضم اضلاع اور دو بندوبستی اضلاع سے، کونسل میں مقرر کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان ارکان میں کرم سے احسان اللہ، خیبر کے علاقے تیراہ سے عزت اللہ، ڈیرہ اسماعیل خان سے عبدالحلیم قصوریہ اور لکی مروت سے عمر بھٹنی شامل ہیں۔ باجوڑ سے سابق رکن اسمبلی شہاب الدین خان پہلے ہی کونسل میں شامل ہونے سے انکار کر چکے تھے۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اے آر ڈی سی قائم کی تھی۔ کونسل میں 12 نامزد اضلاع کے نمائندے شامل ہیں اور اسے امن و امان، شہری تحفظ اور ترقیاتی اقدامات کی نگرانی سے متعلق ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ جے یو آئی ف کی صوبائی کونسل نے اس انتظامی ڈھانچے کی تشکیل مسترد کرتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی کو غیر جمہوری قرار دیا۔ یہ پارٹی کا سیاسی مؤقف ہے۔
اجلاس میں مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششوں پر بھی اعتراض کیا گیا اور گورنر کے مشیر سے متنازع بیانات سے گریز کا مطالبہ کیا گیا۔ پارٹی قیادت نے صوبے کی موجودہ سیاسی کشیدگی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کی کوششوں اور گورنر راج کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اے آر ڈی سی سے استعفوں کا حکم خیبرپختونخوا میں موجودہ انتظامی بندوبست کے بارے میں جے یو آئی ف کی سیاسی مخالفت کو عملی شکل دیتا ہے۔ اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ نامزد پارٹی ارکان مقررہ مدت میں استعفے دیتے ہیں یا نہیں اور وفاقی انتظامیہ خالی ہونے والی نمائندگی کو کس طرح پُر کرتی ہے۔ اس پیش رفت کے اثرات کونسل کی سیاسی قبولیت اور مقامی سطح پر اس کی فعالیت پر پڑ سکتے ہیں۔
