بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں اوتھل کے قریب مسافر کوچ اور منی بس کے تصادم میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہوگئی ہے، جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق حادثہ جمعہ کو کوئٹہ کراچی شاہراہ پر زیرو پوائنٹ کے قریب پیش آیا تھا اور زخمیوں میں سے مزید افراد کے دم توڑنے کے بعد مجموعی ہلاکتیں 15 تک پہنچ گئیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق حادثے میں 22 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ سات مسافر موقع پر جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ آٹھ دیگر بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ حکام نے بتایا کہ چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث طبی ٹیمیں ان کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔
حادثے کے بعد ریسکیو اہلکار، پولیس اور مقامی انتظامیہ جائے وقوع پر پہنچے اور متاثرہ گاڑیوں سے مسافروں کو نکال کر طبی مراکز منتقل کیا۔ شدید تصادم کے باعث دونوں گاڑیوں کو نمایاں نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ضرورت کے مطابق بڑے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
واقعے کے بعد مقامی سطح پر شاہراہ کی نگرانی اور ٹریفک قوانین کے نفاذ سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رہائشیوں نے پولیس اور ہائی وے حکام کی مبینہ غفلت پر تنقید کی، تاہم کسی سرکاری تحقیقات نے اس مرحلے پر کسی فرد یا ادارے کو حادثے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ ذمہ داری کا تعین شواہد اور متعلقہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
بلوچستان کی طویل بین الاضلاعی شاہراہوں پر مسافر کوچز، چھوٹی گاڑیوں اور مال بردار ٹریفک کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ کئی راستوں پر سڑک کی گنجائش، رفتار کی نگرانی، گاڑیوں کی فٹنس اور ڈرائیوروں کے آرام کے اوقات جیسے معاملات سڑکوں کی حفاظت کے مباحث میں مسلسل زیر بحث رہتے ہیں۔
اوتھل حادثے کے بعد فوری توجہ زخمیوں کے علاج اور واقعے کی وجوہات کے تعین پر مرکوز ہے۔ مستقبل میں ایسے واقعات کم کرنے کے لیے ٹریفک قوانین کے مؤثر نفاذ، گاڑیوں کی فٹنس جانچ، شاہراہوں کی بہتری اور ہنگامی طبی ردعمل کی استعداد کو ایک ساتھ مضبوط کرنا ضروری ہوگا۔
