راولپنڈی/لاہور: حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہل خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نام ایک کھلا خط لکھ کر پولیس تحقیقات پر اپنے تحفظات دہرائے ہیں اور معاملے کی غیر جانب دار جانچ کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ موجودہ تفتیشی عمل کے بارے میں ان کے اعتراضات دور نہیں ہوئے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمام دستیاب فرانزک اور دیگر شواہد کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔

حنا جاوید، جو ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے سے وابستہ تھیں، اگست میں راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائی گئی تھیں۔ پولیس نے جسم پر تشدد کے نشانات کی اطلاع دی تھی۔ ان کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کیا گیا، جبکہ خاندان نے قتل سے متعلق مختلف افراد کے کردار پر سوالات اٹھائے۔ مقدمہ ابھی زیر تفتیش اور زیر سماعت مراحل میں ہے، اس لیے کسی ملزم کے خلاف الزام کو عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ وہ کیس پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ڈی این اے و پولی گراف نتائج سے متعلق ابتدائی معلومات کا حوالہ دیا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تحقیقات جاری ہیں۔ اہل خانہ نے اپنے خط میں اس مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض شواہد کو مناسب وزن نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم سے متعلق فرانزک مواد اور زیر التوا ڈیجیٹل فرانزک رپورٹس کا حوالہ بھی دیا۔ یہ نکات خاندان کے الزامات اور تشریحات ہیں، جن کا حتمی تعین عدالت یا مجاز تحقیقاتی فورم نے نہیں کیا۔

دستیاب پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے تجزیے سے متعلق رپورٹنگ میں جسم پر تشدد کے نشانات اور مختلف نمونوں میں متعدد افراد کے جینیاتی مواد کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ تفتیشی کمیٹی کو مقدمے کے حتمی مجرم یا بے گناہ کا تعین عدالتی فیصلے سے پہلے نہیں کرنا چاہیے۔

پنجاب حکومت پہلے ہی تحقیقات کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر چکی ہے، جس نے راولپنڈی کا دورہ، زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ، خاندان سے ملاقات اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھی پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام کو بریفنگ کے لیے طلب کیا ہے۔ اب اہل خانہ کی نئی درخواست کے بعد توجہ اس بات پر ہے کہ صوبائی حکومت عدالتی کمیشن کے مطالبے اور موجودہ تفتیشی ڈھانچے سے متعلق اعتراضات پر کیا ردعمل دیتی ہے۔