پاکستان میں 2026 کے دوران اب تک جنگلی پولیو وائرس کے سات کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ قومی پولیو پروگرام کے حکام نے بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے مہم جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق نے عالمی یوم پولیو کے موقع پر کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں کیسز میں 99.8 فیصد کمی ہوئی ہے اور پولیو وائرس کے لیے مثبت ماحولیاتی نمونوں کی شرح بھی 10 فیصد سے کم ہو گئی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق اکتوبر 2026 تک رپورٹ ہونے والے سات کیسز میں پانچ خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے ہیں۔ پنجاب میں رواں سال اب تک کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم پروگرام حکام نے خبردار کیا ہے کہ آبادی کی نقل و حرکت کے باعث وائرس کسی بھی علاقے تک پہنچ سکتا ہے، اس لیے صفر کیس والے صوبوں میں بھی نگرانی اور ویکسینیشن جاری رکھنا ضروری ہے۔

عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ حاصل شدہ پیش رفت برقرار رکھنا اگلا اہم مرحلہ ہے۔ انہوں نے پولیو ورکرز اور ملکی و بین الاقوامی شراکت داروں کے کردار کو سراہا۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ دنیا کے ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر موجود ہے، اس لیے وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے ہر بچے تک بار بار ویکسین پہنچانا بنیادی حکمت عملی ہے۔

روٹری انٹرنیشنل نے بھی پاکستان کی پولیو مہم کے لیے اپنی طویل مدتی معاونت جاری رکھنے کی تصدیق کی۔ تنظیم کے صدر اولائینکا حکیم بابالولا کے مطابق روٹری عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لیے تین ارب ڈالر سے زیادہ فراہم کر چکی ہے اور پاکستان میں کروڑوں بچوں کے تحفظ کے لیے مالی اور رضاکارانہ وسائل استعمال کیے گئے ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ویکسینیشن ٹیموں اور ان کی سکیورٹی پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں صحت کارکنوں، گھر گھر جانے والی ٹیموں اور حفاظتی ٹیکہ مراکز کے لیے مضبوط سکیورٹی فریم ورک کا مطالبہ کیا ہے۔ ستمبر میں بلوچستان میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا بھی حوالہ دیا گیا۔

عالمی یوم پولیو کے موقع پر راولپنڈی میں فرنٹ لائن کارکنوں کے اعزاز میں تقریب بھی منعقد ہوئی، جہاں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ساجد خان نے والدین سے اپیل کی کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر مہم میں پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔

سات کیسز کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ کیسز میں تاریخی کمی کے باوجود وائرس کا پھیلاؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اگلی کامیابی کا دارومدار مسلسل ماحولیاتی نگرانی، زیادہ خطرے والے اضلاع میں ویکسین کی رسائی، والدین کے اعتماد اور فرنٹ لائن کارکنوں کی حفاظت پر ہوگا۔