مسلسل اپ ڈیٹس

پاکستان: پولیو کے کیسز اور انسداد مہم (2026)

2026 میں پاکستان میں اب تک جنگلی پولیو وائرس کے سات کیس رپورٹ ہوئے — پانچ خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے، جبکہ ماحولیاتی نمونوں کی مثبت شرح 10 فیصد سے کم بتائی گئی ہے۔ وزیراعظم کی فیکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے عالمی یومِ پولیو کے موقع پر کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے اور مہمات جاری رکھی جائیں گی؛ انہوں نے ہر بچے تک بار بار ویکسین پہنچانے کو بنیادی حکمتِ عملی قرار دیا۔ روٹری انٹرنیشنل نے پاکستان میں مہم کے لیے طویل مدتی مالی و رضاکارانہ معاونت جاری رکھنے کی تصدیق کی، اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے فرنٹ لائن ویکسینیشن ٹیموں اور ان کی سکیورٹی پر حملوں کی مذمت کر کے محفوظ فریم ورک کا مطالبہ کیا — رپورٹ میں ستمبر میں بلوچستان میں پولیو ٹیم کے تحفظ پر مامور دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں فرنٹ لائن کارکنوں کے اعزاز میں تقریب ہوئی جس میں کرکٹر ساجد خان نے والدین سے پانچ سال سے کم بچوں کو ہر مہم میں ویکسین پلانے کی اپیل کی۔ رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ کیسز میں تاریخی کمی کے باوجود وائرس مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور مستقل نگرانی، خطرہ والے اضلاع میں ویکسین کی رسائی، والدین کے اعتماد اور فرنٹ لائن کارکنوں کی حفاظت آئندہ کامیابی کے بنیادی عوامل ہوں گے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

پاکستان: پولیو کے کیسز اور انسداد مہم (2026) | اردو ہیڈ لائنز